Al-Risala · September 1998 · page 15

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵

تالیف قلب

قرآن میں زکوٰۃ کی ۸ مدیں بتائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک مد وہ ہے جن کے لیے تالیف قلب کا لفظ آیا ہے (التوبہ : ۶۰) اس سے مراد ہے الفت یا دل جوئی کے لیے خرچ کرنا۔ یہ مد اصلاً غیر مسلموں کے لیے رکھی گئی ہے تاکہ ان کے دل نرم ہوں اور وہ اسلام کی طرف مائل ہو سکیں۔

تالیفِ قلب سے مراد صرف مال خرچ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل اصول ہے جو دعوتی عمل میں مختلف پہلوؤں سے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کو ایک لفظ میں دعوتی دل جوئی کہا جا سکتا ہے۔ اس دعوتی دل جوئی کی چند مثالیں یہ ہیں :

۱۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا تو ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ فرعون سے نرم انداز میں اپنی بات کہنا فقولا لہ قولاً لیناً ط ۴۴ حضرت موسیٰ کو یہ ہدایت فرعون کے مقابلہ میں دی گئی جو کہ معلوم طور پر ایک سرکش انسان تھا۔ اس لحاظ سے اس حکم کا مطلب یہ ہوا کہ مخاطب (یا مدعو) خواہ سرکشی کرے، خواہ وہ اشتعال انگیز انداز اختیار کرے، داعی کو ہر حال میں نرم انداز میں گفتگو کرنا ہے۔ اس کو ایک طرف طور پر اپنے آپ کو اس کا پابند بنانا ہے کہ وہ مدعو کی سخت کلامی کا اثر نہ لیتے ہوئے اپنی بات ٹھنڈے طریقے سے کہے گا، وہ کسی حال میں بھی ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہیں کرے گا۔

۲۔ قرآن میں اہل کتاب کو خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں : قل یا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله (آل عمران (۶۴) یعنی اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے ، یہ کہ ہم عبادت نہ کریں سوا ایک اللہ کے۔ یہ انداز کلام بھی تالیف قلب کی ایک مثال ہے۔ اس آیت میں کلمہ سواء کا لفظ تقریب کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ مخاطب دعوت کو اجنبی سمجھ کر اس سے متوحش نہ ہو بلکہ اسے خود اپنی ایک چیز سمجھ کر اس کو قبول کرے ــــــــ یہ دوری کو قربت میں تبدیل کرنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues

Printed page