حب وطن اور اسلام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۳
مولانا سید حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ مولانامدنی کا یہ جملہ خبر ہے، وہ انشاء نہیں۔ یعنی یہ ایک واقعہ ہے کہ بقیہ دنیا میں وطن کو قومیت کی بنیاد مان لیا گیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں بھی قومیت کی بنیاد وطن پر قائم ہے مگر یہ تشریح درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔ فقہ کا ایک مستقل اصول یہ ہے کہ چیزوں کا اصل ان کا مباح ہونا ہے (الاصل فی الاشیاء الاباحۃ) Everything is lawful unless it is declared unlawful یہ ایک واضح بات ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی براہ راست ہدایت موجود نہیں۔ قرآن وحدیث میں نہ یہ کہا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد مذہب پر ہے اور نہ یہ کہ اس کی بنیاد وطن پر ہے اس لیے اس معاملہ کو ان امور سے متعلق سمجھا جائے گا جن کی بابت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ: انتم اعلم بامور دنیاکم (تم اپنی دنیا کے معاملات کو زیادہ جانتے ہو) شرح مسلم ۱۱۸/۱۵ جہاں تک عقیدہ اور عبادت اور آخرت کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں مگر جو امور انتظام دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔ اس معاملہ میں ایک پیغمبرانہ واقعہ سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا انھوں نے مدینہ آکر پیغمبر اسلام سے ملاقات کی اور مدعی نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فانی قد اشرکت فی الامر معك) مسیلمہ کے دونوں سفیروں سے کلام کرنے کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا (اما واللہ لولا ان الرسل لا تقتل لضربت عناقكما) سیرۃ ابن کثیر ۹۸/۴ پیغمبر اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا جو دوسری قوموں کا طریقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues