حب وطن اور اسلام
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
حب وطن اور اسلام
۲۸ مارچ ۱۹۹۸ کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمنار تھا۔ اس کا اہتمام اردو اکادمی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کا موضوع مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت اور کارناموں کا جائزہ تھا۔ اس موقع پر میں نے بھی ایک تقریر کی۔ میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک حب الوطنی کا مسئلہ تھا۔ میں نے کہا کہ ۲۰ ویں صدی میں لمبی مدت تک مسلم مفکرین کسی نہ کسی طور پر اس نظریہ سے متاثر رہے ہیں جس کو عام طور پر پان اسلام ازم کہا جاتا ہے۔ اس میں دور جدید کے بہت سے مفکرین کے نام شامل ہیں۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، اقبال، محمد علی، سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ابوالکلام آزاد، وغیرہ۔ یہ لوگ مسلمانوں کو ایک بین اقوامی برادری سمجھتے تھے اور مسلمان کو ایک عالمی قومیت کا رکن بتاتے تھے اپنے اس نظریہ کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ قومیت "نیشن ھڈ" کی بنیاد مذہب پر ہے نہ کہ وطن پر۔
میں نے کہا کہ میری عمر ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے ۷۸ سال ہو رہی ہے۔ میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اسلام اور اسلام سے متعلق علوم کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ قومیت کو مذہب پر مبنی قرار دینا کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔ یہ سراسر ایک سیاسی نظریہ ہے جو مخصوص حالات میں پیدا ہوا۔ ۲۰ ویں صدی کے نصف اول میں مسلمانوں کے سیاسی قائدین یورپی استعمار کے خلاف تمام دنیا کے مسلمانوں کو ابھارنا چاہتے تھے۔ اپنے اس سیاسی مقصد کے نظریاتی جواز کے لیے انھوں نے عالمی قومیت مذکورہ نظریہ پیش کیا۔ یہ اسلام کا سیاسی استحصال تھا نہ کہ اسلام کی حقیقی ترجمانی۔
اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر وہی ہے جو پولیٹیکل سائنس کا نقطہ نظر ہے اور جس کو تمام دنیا میں نظری یا عملی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قومیت (نیشن ھڈ) کی بنیاد وطن (مدر لینڈ) پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا میں پاسپورٹ پر کسی آدمی کی قومیت (نیشنلٹی) وہی لکھی جاتی ہے جو وطن کی نسبت سے اس کی ہے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو یا دوسرے مذہب سے۔ مثلاً انڈیا میں ہر مسلمان یا غیر مسلمان پاسپورٹ میں اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے، برطانیہ میں برٹش، امریکہ میں امریکن، وغیرہ۔ مبنی بر وطن قومیت کا یہ نظریہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اور بقیہ دنیا میں کوئی اختلاف یا ٹکراؤ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues