سفر امریکہ - ۲
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷
سفر امریکہ - ۲
بہت عرصہ سے میں سوچ رہا تھا کہ اس کا سبب یا ہے ۔ ۲۵ اگست ۱۹۹۶ کو نیو یارک کے ایک اجتماع میں اس کی حقیقت سمجھ میں آئی۔ یہاں میری تقریر کے بعد حسب معمول سوال و جواب ہو رہا تھا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ عقیدہ صرف قول کا نام ہے یا قول اور عمل دونوں کا۔ دوسرے صاحب جو غالباً سلفی تھے، انھوں نے اس پر زور دیا کہ آدمی کو صحیح العقیدہ ہونا چاہیے ۔
میری سمجھ میں آیا کہ ساری خرابی غلط تقابل کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے سلفی حضرات فاسد العقیدہ کا تقابل صحیح العقیدہ سے کرتے ہیں اور پھر سمجھ لیتے ہیں کہ ہم مطلوب عقیدہ پر قائم ہیں ۔ " صحیح العقیدہ" کا لفظ غلط تو نہیں ہے مگر وہ ناقص ہے۔ کیوں کہ دونوں ہی صورتوں میں عقیدہ کیفیاتی حقیقت نہ رہ کر ایک کمیاتی حقیقت بن جاتا ہے۔ وہ ایک لفظی مجموعہ کی جگہ دوسرا لفظی مجموعہ ہے۔
حدیث کی زبان میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ کامل العقیدہ کا لفظ بولا جائے ۔ یعنی خدا کو کامل معرفت کے درجہ میں پالینا۔ عقیدہ کی حیثیت اگر ایک لفظی مجموعہ کی جگہ دوسرے لفظی مجموعہ کی ہو تو بظاہر درست ہونے کے باوجود عقیدہ محض ایک اوپر کی چیز رہتا ہے۔ مگر جب عقیدہ کو کامل معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا ۔ خدا کی گہری معرفت (realisation) اور خدا جیسی ہستی کو آدمی جب ادراک اور معرفت کے درجہ میں پا لے تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہو گا کہ اس کے اندر تواضع اور خشوع کی کیفیت پیدا ہو جائے گی ۔ سید محمد کلیم ایم ایس سی (پیدائش ۱۴۰۶) اسلام آباد (پاکستان) کے رہنے والے ہیں۔ آج کل وہ تلاش معاش کے سلسلہ میں کناڈا آئے ہوئے ہیں۔ یکم ستمبر کو فلاڈ لفیا میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ پاکستان کے مقابلہ میں کناڈا اور امریکہ میں کیا فرق آپ نے دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ بہت ۔ جب تک میں اسلام آباد میں تھا، میرا غیر مسلموں سے کوئی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ یہاں آیا تو میں نے غیر مسلم سوسائٹی کو دیکھا۔ یہاں اسلام کی حقانیت مزید واضح ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان میں اگر روشنی ہے تو یہاں اندھیرا ہے۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں مارل ویلیوز ہیں یہاں کی سوسائٹی میں کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1998 All issues