دشمن اگر قوی است نگہباں قوی تراست
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۴۹
۱۳ جن ستہ کے نمائندہ مسٹر صفدر رضوی نے ۱۴اپریل۱۹۹۷ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ملک کی موجودہ صورت حال سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان میں صرف مخلوط حکومت ہی بن سکتی ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی پارٹیوں کو چاہئے کہ نظریاتی انتہا پسندی کا طریقہ چھوڑ دیں اور وسیع تر ملکی مفاد کی خاطر ملی جلی حکومت بنانے پر راضی ہو جائیں جیسا کہ ملیشیا میں اور دوسرے ملکوں میں عرصہ سے کامیابی کے ساتھ ہورہا ہے۔
۱۴ فارایسٹرن اکنامک ریویو (ہانگ کانگ) کے اسسٹنٹ ایڈیٹر (اے بی گھوش) نے ۷ مئی، ۱۹۹۷ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق ۵۰ سالہ ہندومسلم تعلقات کے بارہ میں تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مسلمان کسی خارجی سازش کا شکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ خود اپنی نااہل قیادت کی غلط رہنمائی کا شکار ہوئے۔ گفتگو کے بعد انھیں ہندوستانی مسلمان (انگریزی) کی ایک کاپی دی گئی۔ ۱۵ این وی اے نیوز ایجنسی کے نمائندہ مسٹر نسیم نقوی نے حج کے موقع پر منی میں ہونے والے حادثہ (۱۶؍اپریل۱۹۹۷)کے کے بارے میں تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس سلسلہ میں ضروری تفصیلات بتائی گئیں۔ یہ کہا گیا کہ اس حادثہ کا سبب سعودی حکومت کا ناقص انتظام نہیں تھا۔ اس کی تمام تر وجہ حاجیوں کی عدم تربیت تھی۔ اس سلسلہ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ حج ہاؤس کی طرف سے حج کے لئے جانے والوں کی تربیت کے لئے اورینٹیشن کورس چلائے جائیں۔
۱۶ انگریزی میگزین کالی یگ (Kali Yug) کی نمائندہ مسز روپا شرما نے ۸ مئی، ۱۹۹۷ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق اسلام کی سماجی اور اخلاقی تعلیمات سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ جس طرح گیتا اور ہندوسماج دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں۔ یہی معاملہ اسلام اور مسلمان کا ہے۔ آپ کو چاہئے کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں نہ کہ مسلمانوں کی پریکٹس کو دیکھ کر اسلام کے بارہ میں رائے قائم کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues