Al-Risala · October 1998 · page 5

دانش مند کون

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۵

لئے خدا کیے یہاں وہ انعام نہیں جو ایک اعلیٰ انسان کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ تاہم مسلم قوموں کی ایک صفت یہ ہے کہ خواہ زوال کے نتیجہ میں ان کے یہاں قول طیب اور عمل صالح باقی نہ رہا ہو۔ تب بھی اسلامی عقائد ان کے یہاں باقی رہتے ہیں مگر یہ سب کچھ رسمی سطح پر ہوتا ہے نہ کہ زندہ یقین کی سطح پر۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگی دو عملی کی روش پر قائم ہو جاتی ہے۔ اپنی حقیقی عملی زندگی میں وہ مکمل طور پر خواہشات اور مادی مفادات کے پیرو بنے رہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ اپنی خیالی دنیا میں جھوٹی امیدوں کا ایک خود ساختہ محل بنا لیتے ہیں۔ جہاں وہ اپنے دینی عقائد کے ساتھ زندہ رہ سکیں ۔ دنیوی اعتبار سے وہ پوری طرح ایک فعال زندگی گزارتے ہیں ، لیکن اخروی اعتبار سے وہ صرف خوش فہمیوں میں جینے والے بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی حقیقی عمل کے بغیر ہی بڑے بڑے نتیجہ کی امید قائم کر لیتے ہیں۔ ان کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ ہمارے معاملات پیشگی طور پر درست ہو چکے ہیں، دنیا اور آخرت میں ہمارا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں۔ آدمی بیک وقت دو چیزوں پر یکساں درجہ کی توجہ نہیں دے سکتا۔ جو آدمی آخرت کو اہمیت دے وہ آخرت سے تعلق رکھنے والی باتوں کو بے حد اہمیت دے گا۔ اس کے مقابلہ میں دنیوی چیزیں اس کی نظر میں غیر اہم ہو جائیں گی۔ اور جو آدمی دنیا کو اہمیت دے وہ دنیا کے معاملات کو بے حد سنگین سمجھے گا۔ اس کے مقابلہ میں آخرت سے تعلق رکھنے والی باتیں اس کو زیادہ اہم دکھائی نہ دیں گی۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ کون آخرت پسند ہے اور کون دنیا پرست۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page