Al-Risala · October 1998 · page 9

انتقام نہیں

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۹

زندگی میں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کے اندر غصہ اور انتقام کے جذبات کو بھڑکادیتے ہیں۔ یہ ہر آدمی کا نازک ترین امتحان ہے۔ اگر وہ غصہ اور انتقام کے راستہ پر چل پڑے تو وہ ہر لحاظ سے ناکام ہو جائے گا اور اگر وہ غصہ اور انتقام کے جذبات کو روک لے اور مثبت ذہن کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بنائے ۔ تو وہ ہر لحاظ سے کامیاب ہوکر رہے گا۔

موجودہ دنیا میں انسان کو بہت سے لوگوں کے ساتھ مل کر رہنا ہونا ہے۔ ان دوسرے لوگوں سے بار بار ایسے تلخ تجربے پیش آتے ہیں جو اس کی انانیت کو جگائیں اور اس کے اندر غصہ کی آگ بھڑکادیں۔ جب کسی آدمی کا یہ حال ہوتا ہے تو اس کے بعد اس کے اندرونی منفی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو انتقام کہا جاتا ہے اس وقت آدمی معتدل حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ جس سے اسے تلخ تجربہ پیش آیا ہے اس کے اوپر اپنے غصہ کی آگ کو انڈیل دے ، اس کو بھر پور طور پر اپنے انتقام کا نشانہ بنائے۔ اس قسم کا جذ بہ پیدا ہوتا بالکل فطری ہے۔ مگر اس جذ بہ کو استعمال کرنا انتہائی حد تک ہلاکت خیز ہے عقل مندی یہ ہے کہ جب اس قسم کی آگ آدمی کے سینہ میں بھڑ کے تو وہ اس کو اندر ہی اندر بجھانے کی کوشش کرے نہ یہ کہ اس کو ظاہر کر کے سماج میں تباہی پھیلائے اور خود بھی تباہی کا نشانہ بنے۔

ہر انتقام دوبارہ نئے انتقام کا جذ بہ پیدا کرتا ہے۔ اس لئے اس کا حل یہ ہے کہ انتقام کے جذ بہ کو پہلے ہی مرحلہ میں دبادیا جائے۔ انتقام کا حل انتقام لینا نہیں ہے بلکہ انتقام نہ لے کر اس کو بھلا دینا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page