ایک گفتگو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰
ایک گفتگو
۲۶ جون ۱۹۹۸ کو پٹنہ کے جناب نواب حیدربنجارا سے (251179 :Tel) ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ بہار کے ایک سابق ہندو وزیر بھی تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہر بستی میں اور ہر قوم میں خدا کے پیغمبر آئے۔ اس بیان کے مطابق بھارت میں بھی ضرور خدا کے پیغمبر آئے ہوں گے۔ ایسی حالت میں اگر ہم رام اور کرشن اور بدھ کو پیغمبر مانیں تو اس میں کیا حرج ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قرآن میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ پیغمبروں میں فرق نہ کرو، اور تمام پیغمبروں پر ایمان لاؤ۔ (البقرہ-۱۳۶) اس لئے دوسرے پیغمبروں کو ماننا خود ہمارے عقیدہ کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔
میں نے کہا کہ اصولی طور پر یہ بات درست ہے۔ کہ ہر بستی اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے آگاہ کرنے والے آئے (فاطر۔ ۲۴) حدیث کے مطابق ان خدائی فرستادوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ اجمالی ایمان کے طور پر یقیناً ہم ان تمام پیغمبروں کو مانتے ہیں مگر جب کسی شخصیت کو نام لے کر پیغمبر بتایا جائے تو ضروری ہے کہ اس کے لئے ہمارے پاس کوئی ثبوت موجود ہو، محض ذاتی قیاس کی بنا پر ہم کسی متعین شخص کو پیغمبر نہیں کہہ سکتے۔ رسالت پر ایمان کی تکمیل کے لئے تمام پیغمبروں پر نام بنام ایمان لانا ضروری نہیں، صرف مجمل ایمان سے یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔
اس معاملہ میں پہلا ذریعہ قرآن و حدیث ہے۔ مگر جب ہم قرآن کو اس نظر سے دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں نام لے کر جن پیغمبروں کا ذکر آیا ہے، ان کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues