ایک گفتگو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
اوتار تھے۔ اس طرح انھوں نے گوتم بدھ کو ہندو او تاروں میں شامل کر لیا۔ مگر بدھ مذہب کے لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ جب ہم خدا کے وجود ہی کو نہیں مانتے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم گوتم بدھ کو خدا کا اوتار بتائیں۔
اوپر جو کچھ کہا گیا، اس کا تعلق صرف ان مذہبی شخصیتوں سے ہے جو پیغمبر اسلام ﷺ کے ظہور سے پہلے پیدا ہوئیں۔ پیغمبر اسلام کے بعد پیدا ہونے والی مذہبی شخصیتوں پر اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق، محمد ﷺ پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ ایسی حالت میں آپ کے بعد پیدا ہونے والی کسی شخصیت کو اس حیثیت سے زیر غور لانا سرے سے ممکن ہی نہیں، خواہ اس نے اپنے کو پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
آخری بات یہ ہے کہ جو لوگ مذکورہ قسم کا نظریہ پیش کرتے ہیں وہ اس لئے ایسا کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ پیدا ہو گا۔ مگر میل ملاپ کا تعلق اس قسم کے کسی نظریہ سے نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مذاہب کے درمیان کبھی داخلی لڑائی نہ ہوتی۔ جیسا کہ معلوم ہے مہاتما گاندھی کو جس شخص نے قتل کیا وہ ایک ہندو تھا نہ کہ مسلمان۔ اسی طرح نواب زادہ لیاقت علی خاں کو جس نے قتل کیا وہ ایک مسلمان تھا نہ کہ ہندو۔ یہی پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔ میل ملاپ کی بنیاد باہمی احترام ہے نہ کہ مذہبی اشتراک۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues