ایک گفتگو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲
مزید خصوصیت صرف یہ ہے کہ خدا اس کو اپنے پیغام کی پیغام رسانی کے لئے چنتا ہے۔ اور فرشتہ کے ذریعہ اس پر اپنا کلام اتارتا ہے۔ اس کے بر عکس ہندو مذہب میں جب ایک شخص کو اوتار کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا اس شخص کی صورت میں دنیا میں ظاہر ہوا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو فلسفہ کی زبان میں تجسیم (incarnation) کہا جاتا ہے۔ اس طرح اوتار کا مطلب تجسیمی خدا(incarnate-god) ہے۔ نہ کہ اسلامی معنوں میں پیغمبر خدا۔ ایسی کسی شخصیت کو اگر اوتار کہا جائے تو یہ اسلامی عقیدہ کے خلاف ہوگا اور اگر اس کو پیغمبر کہا جائے تو ہندو عقیدہ کے خلاف۔
پھر جب خود ہندو مذہب رام اور کرشن کو پیغمبر نہ بتا رہا ہو تو ہم خود سے کس طرح ان کے اوپر پیغمبر کا لیبل لگا دیں گے۔ کسی مذہبی نظام کی کوئی شخصیت اس پہلو سے اس وقت قابل غور ہو سکتی ہے جب کہ وہ مذہبی نظام اس کے پیغمبر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ جس شخصیت کو وہ پیغمبر خدا کی حیثیت سے پیش نہ کرے، اس پہلو سے اس کا نام سرے سے زیر بحث لایا نہیں جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ رام اور کرشن کو پیغمبر کہنا اتناہی غیر علمی ہے جتنا محمد اور ابراہیم کو اوتار کہنا۔
اب گو تم بدھ کے معاملہ کو لیجئے ۔ کچھ لوگ ان کو خدا کا پیغمبر بتاتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔ اس لئے کہ گو تم بدھ کی موجود تعلیمات کے مطابق، وہ سرے سے خدا کے وجود ہی کو نہیں مانتے۔ چنانچہ بدھ مذہب کو ایک غیر خدائی مذہب (godless religion) کہا جاتا ہے۔ پھر جو شخصیت خدا کے وجود ہی کو نہ مانتی ہو اس کو خدا کا پیغمبر کس طرح کہا جائے گا۔ ایسے قول پر تو وہ مثل صادق آئے گی کہ : مدعی سست گواہ چست۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوؤں نے بطور خود یہ اعلان کیا کہ گو تم بدھ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues