Al-Risala · October 1998 · page 15

ایک واقعہ دو انجام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵

دی کہ میں تم کو ملازمت سے برخوست کردوں گا تو پنڈت شرمانے کہا کہ آپ جو چاہیں کریں، مگر میں مسجد پر اپنا بلڈوزر نہیں چلا سکتا۔ چنانچہ پوری کالونی مکمل طور پر ڈھادی گئی مگر یہ مسجد اکیلی عمارت کی حیثیت سے کھڑی رہی۔ ایک عرصے تک یہ مسجد غیر آباد پڑی ہوئی تھی۔ اب قاری محمد سمیع اللہ صاحب نے اس کو آباد کیا ہے۔ انھوں نے اس کی نئی تعمیر کر کے وہاں ایک مدرسہ بھی قائم کر دیا ہے جس کا نام مدرسہ الحراء ہے۔ ایک طرف جسولا وہار کی یہ مسجد ہے جس کو توڑنے سے ہندو انکار کر دیتا ہے دوسری طرف ایودھیا کی مسجد ہے جس کو ہندو اقدام کر کے توڑ ڈالتا ہے۔ یہ فرق کیوں۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ جسولا وہار کا ہندو ایک نارمل ہندو تھا۔ جب کہ ایودھیا کا ہندو ایک غیر نارمل ہندو تھا جس کی انا کو نا اہل مسلم لیڈروں نے اپنی اشتعال انگیز تقریروں سے بھڑکادیا تھا۔ گویا کہ جسولا وہار کا ہندو اگر مسٹر ہندو تھا تو ایودھیا کا ہندو مسٹر ایگو۔ سیکڑوں سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ مسٹر ہندو نے کبھی کسی مسجد کو نہیں توڑا مگر جب مسٹر ہندو کو بھڑکا کر مسٹر ایگو بنا دیا جائے تو اس کے بعد وہ ہو گا جو 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں پیش آیا۔ یہ واقعہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہونچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں سب اللہ کے بس میں ہے (وان تصبرو ا وتتقوا لا يضركم كيدهم شئيا ان الله بما يعملون محیط) آل عمران۔ ۱۲۰۔

اس آیت کے مطابق، اس دنیا میں اصل مسئلہ کید (سازش) کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ صبر کی غیر موجودگی ہے۔ اہل ایمان اگر صبر کی روش اختیار کریں تو خدا کی ضمانت ہے کہ مخالفین کی سازش یقینی طور پر بے اثر ہو کر رہ جائے گی۔ البتہ اگر اہل ایمان بے صبری کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page