Al-Risala · October 1998 · page 16

ایک واقعہ دو انجام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۶

روش اختیار کریں تو سخت اندیشہ ہے کہ وہ اغیار کی سازش کی زد میں آ جائیں گے۔ مذکورہ دونوں مثالیں اس کا کھلا ہوا نمونہ ہیں۔ ایودھیا کی مسجد کے معاملہ میں جذباتی لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے غیر صابرانہ روش اختیار کی۔ اس نتیجہ یہ ہوا کہ ایودھیا کی مسجد کو کچھ مشتعل ہندوؤ ں نے توڑ دیا۔ اس کے برعکس دہلی کی مسجد کے معاملہ میں کوئی جذباتی لیڈر اشتعال دلانے کے لئے موجود نہ تھا۔ یہاں فطرت نے مسلمانوں کی رہنمائی کی چنانچہ انھوں نے صبر اور خاموشی کی روش اختیار کر لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دہلی کی مسجد جہاں تھی وہیں بدستور قائم رہی، بلکہ سرکاری حکم کے باوجود ہندو نے اس کو توڑنے سے انکار کر دیا۔

جسولاوہار کی مسجد اور ایودھیا کی مسجد کا تقابل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں کلی طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ تمثیل یا تقابل کا یہ مطلب کبھی نہیں ہوتا کہ دونوں کے درمیان کلی یکسانیت پائی جائے۔ تمثیل یا تقابل ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان جزوی مشابہت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ کلی مشابہت کے اعتبار سے۔

قرآن مجید میں بتوں کی مثال مکڑی سے دی گئی ہے (العنکبوت۔ ۴۱) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بتوں میں مکڑی کی طرح پاؤں ہوتے ہیں یا وہ بھی مکڑی کی طرح جالہ بنتے ہیں۔ یہ مثال صرف ایک مشترک جزو کے اعتبار سے ہے جو دونوں کے درمیان یکساں طور پر پایا جارہا ہے اور وہ ہے کمزوری۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page