دیوار قہقہہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸
طرف ٹوٹ پڑے وہ مسلم تہذیب کے بجائے مغربی تہذیب کے دل دادہ ہو گئے وہ ایسا نہ کر سکے کہ مغربی درس گاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اسلام کی طرف لوٹیں اور اسلام کی نمائندگی کے تقاضے پورے کریں وہ دنیا کی قوموں کے سامنے اسلام کے داعی بن جائیں۔ اس کے برعکس یہ ہوا کہ اسلام سے تو انھوں نے صرف رسمی قسم کا تعلق رکھا۔ عملی طور پر وہ پوری طرح مغرب اور مغربی تہذیب کے خادم بن کر رہ گئے۔
یہ صورت حال آج بہت بڑے پیمانے پر قائم ہے۔ مسلم دنیا کے بیشتر باصلاحیت نوجوان مغربی علوم کو سیکھ کر مغرب کی سیاسی اور اقتصادی مشین کے پرزے بنے ہوئے ہیں۔ وہ بظاہر اسلام کا نام لیتے ہیں مگر عملاً وہ خدمتِ اسلام کے بجائے خدمتِ مغرب کو اپنا مقصدِ حیات بنائے ہوئے ہیں۔
دیوار قہقہہ تو شاید ایک افسانوی دیوار ہو، مگر جدید دیوار قہقہہ پورے معنوں میں ایک حقیقی دیوار ہے اور اسی کے ساتھ نہایت سنگین مسئلہ بھی۔ اس جدید دیوار نے اہل اسلام کے بہترین افراد کو ان سے چھین لیا ہے۔ اس نے ہمارے انتہائی لائق نوجوانوں کو خدمتِ اسلام کے میدان سے ہٹا کر خدمتِ غیر اسلام کے میدان میں سرگرم کر دیا ہے۔
اس مسئلے کا ایک جزئی حل یہ ہے کہ ایسے ادارے قائم کیے جائیں جہاں ان نوجوانوں کو چھٹیوں کے زمانہ میں بلایا جائے اور ہر سال کم از کم ایک مہینہ ان کو یہاں گزارنے کا موقع دیا جائے یہاں یہ کوشش کی جائے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ انھیں اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ جہاں، میں وہ وہاں ون مین لومن کے اصول پر رہ سکیں ۔ یعنی اپنا معاشی کام کرتے ہوئے وہ بہتر رہ رکان لوگوں کو اسلام کا پیغام بھی پہنچائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues