سفر امریکہ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۲
پر تنقید سے لوگ بھڑکتے ہیں۔
میں نے کہا کہ بھڑکنے والے کون ہیں، وہ ایک محدود طبقہ ہے۔ اس وقت امت میں ایک بڑا طبقہ ان لوگوں کا ہے جو آزاد خیال ہیں۔ اس کے سامنے یہ سوال ہے کہ دورِ جدید میں ہمارے علماء اور رہنماؤں نے بار بار مجاہدانہ اقدامات کیے، مگر یہ اقدامات صرف مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کا سبب بنے۔ وہ اس ذہنی کش مکش میں مبتلا ہیں کہ کیا اسلام میں کوئی کمی ہے۔ کیا اسلام دور جدید میں صحیح رہنمائی دینے سے محروم ہے۔ یہ لوگ جب الرسالہ میں اس قسم کی تنقیدوں کو پڑھتے ہیں تو اسلام پر ان کا اعتماد از سر نو قائم ہو جاتا ہے۔ وہ ناکامی کے واقعات کو ان رہنماؤں کی تدبیر کار کی غلطی یا اجتہادی خطا قرار دے رہے ہیں نہ کہ اسلام کی کمزوری۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ جس چیز کو لوگ اسلام کی کمزوری کے خانہ میں ڈالے ہوئے تھے اس کو بشری کمزوری کے خانہ میں ڈال دیا۔
۳۱ اگست کی شام کو فضل الرحمن صاحب، مفتی سعید صاحب وغیرہ سے پاکستان پر گفتگو ہوئی۔ فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش بنوایا، ہم کیسے اس کو معاف کرسکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش نہیں بنوایا۔ بلکہ اس نے بنگالیوں کی پاکستان کے خلاف ناراضگی کو استعمال کیا۔ محمد بن قاسم نے سندھ میں داہر کے خلاف ناراض ہندوؤں کو استعمال کیا۔ اسپین میں طارق نے شاہ کے خلاف ناراض گروپ کو استعمال کیا :
You have to know that your enemy will fish in your troubled water. مفتی محمد سعید خاں صاحب کا تقریباً دو دن کا ساتھ رہا۔ یکم ستمبر کی صبح کو ۹ بجے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ واپس گئے۔ آخر وقت میں میں نے ان سے کہا کہ آپ اپنے آخری تاثرات بتائیں۔ انھوں نے میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے جو بغیر کسی مزید اضافہ کے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم - فکری ہلاکت کئی طرح پر واقع ہوتی ہے۔ اور اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی رائے پر مٹے اور یہ سمجھنے لگے کہ بس صرف اسی کی رائے کسی معاملے میں درست ہے اور
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues