سفر امریکہ ۳
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۱
کی آنکھیں اس کو دیکھ رہی ہوں ۔
ایک بار ایک پاکستانی خاندان اپنے عزیز کی شادی کی سالگرہ (wedding anniversary) میں جا رہا تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ بدعت شاید پاکستان سے یہاں آئی ہے ۔ انھوں نے برأت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو پہلے سے مغربی لوگوں میں مروج تھی ، ہم لوگوں نے ان سے لے لیا ہے ۔ میں نے کہا کہ پاکستان ویسٹ کو اسلامائز کرنے کے لیے بنایا گیا تھا ، مگر اب وہ خود اسلام کو ویسٹرنائز کرنے کا کام کر رہا ہے ۔ ایک پرشور اسلامی تحریک کا یہ انجام بھی کیسا عجیب ہے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ تو باہم ملنے کے لیے ہے - تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ " انڈیا میں مسجدیں ڈھائی جا رہی ہیں .... " میں نے کہا کہ کلام کا یہ انداز بے حد غیر اسلامی ہے ۔ یہ جنرلائزیشن ہے ، اور جنرلائزیشن بلاشبہ اسلام میں جائز نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ انڈیا میں ایک مسجد ۶دسمبر ۱۹۹۲ کو ڈھائی گئی تھی ۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ اس کے بعد بھی انڈیا میں تقریباً چار لاکھ مسجدیں محفوظ حالت میں موجود ہیں ۔ انڈیا میں ایک مسجد ڈھائی گئی ہے نہ کہ مسلسل طور پر وہاں مسجدیں ڈھائی جا رہی ہیں ۔
پھر میں نے کہا کہ خود امریکہ میں جہاں آپ ہیں وہاں بھی ایک مسجد کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا ہے ۔
۳۱ اگست کی شام کو عشاء کی نماز رئیس احمد صاحب ( فلاڈلفیا ) کے مکان پر پڑھی گئی ۔ یہاں کئی تعلیم یافتہ مرد اور عورتیں رہائش گاہ پر جمع ہو گئے ۔ چنانچہ ساڑھے گیارہ بجے تک سوال وجواب کی صورت میں گفتگو ہوئی ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ایک ہے کسی چیز کاشرعاً بدعت ہونا، اور دوسرا ہے اس بدعت کے خلاف دھوم مچانا ۔ میں نے کہا کہ کسی چیز کے بدعت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ فوراً اس کے خلاف پرشور مہم شروع کر دیں " بدعت " کے خلاف تحریک چلانے کا تعلق حالات سے ہے نہ کہ نفس مسئلے سے ۔ یعنی اگر مخالفانہ تحریک سے مثبت نتیجہ نکلنے کی امید ہو تو تحریک چلائی جائے گی ، ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی ۔ مفتی محمد سعید خاں صاحب ( راول پنڈی ) الرسالة اور کتابوں کو بہت شوق سے پڑھ رہے ہیں ۔ مگر ان کا خیال تھا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہونا چاہیے ۔ خاص طور پر بڑی شخصیتوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues