Al-Risala · October 1998 · page 24

سعید ۲ ستمبر ۱۹۹۶

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۴

بنانا یا ڈبل روٹی کی ایک پیس پر مکھن لگانا بھی نہیں آتا تو وہ قرآن کی تفسیر کیا لکھیں گے۔ تو یہ بات نحو و صرف کے اعتبار سے درست، مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہوگی۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعار درست انداز میں نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اب اگر کوئی شخص کہے کہ وہ تو ایک شعر صحیح نہیں پڑھ سکتے تو وہ قرآن کیا پڑھیں گے۔ تو یہ بات نحو و صرف کے اعتبار سے درست، مگر حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط بات ہوگی۔

مفتی سعید احمد صاحب سے نہایت تفصیلی باتیں ہوئیں۔ علمی گفتگوؤں کے علاوہ میرے ذاتی حالات بھی انھوں نے دریافت کیے۔ سننے کے بعد یکم ستمبر کی صبح کو انھوں نے کہا کہ آپ زندہ کیسے ہیں ۔ اچانک میری زبان سے نکلا : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں زندہ ہوں ۔ کشمیر کے لوگ ریاست کے جس حصہ کو ”آزاد کشمیر“ کہتے ہیں ، وہاں سے کشمیری مسلمان بڑی تعداد میں یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں ، اور مزید آتے رہتے ہیں۔ ایجنٹوں کو وہ اس کے لیے بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں۔ میں نے ایک کشمیری سے کہا کہ آپ لوگوں کا خواب آزاد کشمیر ہے۔ اس آزاد کشمیر کو پاکستان کے زیر قبضہ حصہ میں آپ بالفعل حاصل کر چکے ہیں۔ اور اب ہندوستان کے زیر قبضہ علاقہ میں اس کی توسیع کی خونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ بات صحیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔

پھر میں نے کہا کہ اپنے بیان کے مطابق ، آپ اپنے مقصد کو کشمیر کے ایک حصہ میں حاصل کر چکے ہیں اور اسی لیے اس کو آزاد کشمیر کہتے ہیں۔ پھر اپنے اس محبوب ملک میں آپ کیوں نہیں ٹھہرے۔ اس کو چھوڑ کر آپ امریکہ میں کیوں آگئے ، جس کو آپ لوگ ظالم اور کافر کہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی تحریک اسلامی تحریک تو کیا ، عام معنوں میں وہ کوئی سنجیدہ سیاسی تحریک بھی نہیں ۔ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔

آج کل امریکہ میں الیکشن کا چرچا ہے۔ مگر ساری مہم بالکل مہذب انداز میں چل رہی ہے۔ ایک طرف ڈیمو کریٹک پارٹی ہے جس کے امید وار مسٹر کلنٹن ہیں۔ دوسری طرف ان کی مخالف ریپبلکن پارٹی ہے۔ ریپبلکن پارٹی نے ایک نعرہ دیا جس کو اے بی سی کہا جاتا ہے ۔ یعنی : anybody but Clinton

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page