Bi-lingual students were much more smarter.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۵
امریکی لوگ محنتی ہیں ۔ مگر اسی کے ساتھ وہ تفریح پسند ہیں ۔ یکم ستمبر سے تین دن کے لیے کاروں پر ادھر ادھر جائیں گے اور تفریحات میں گزار کر واپس آئیں گے ۔ امریکہ میں جو ایشیائی مہاجرین آئے انھوں نے اپنے بچوں کو نہ صرف انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلائی بلکہ اپنے گھر کے اندر بھی وہ انگریزی ہی بولنے لگے ۔ ان کا نظریہ تھا کہ دو زبان کے درمیان رہنے سے بچے کنفیوز ہو جائیں گے ۔ ان بچوں کی زبانیں آج تقریبًا ویسی ہی ہیں جیسی قدیم امریکیوں کی زبانیں ہیں ۔
پانچ سال پہلے کولمبیا یونیورسٹی نے اس معاملہ کا ایک سروے کرایا جو کئی سال تک جاری رہا۔ اس سروے کی رپورٹ ایک سال پہلے شائع ہوئی ہے۔ اس سروے کے مطابق ، یک لسانی کے مقابلہ میں دو لسانی طلبہ زیادہ بہتر پائے گئے :
Bi-lingual students were much more smarter.
ایک صاحب نے اس کے خلاف بولتے ہوئے کہا کہ یہ تو سفید فام لوگوں کی ایک سازش ہے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایشیائی طلبہ سفید فام طلبہ جیسی انگریزی بولتے ہیں تو انھوں نے سروے کا ڈرامہ کیا ۔ اس طرح وہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو انگریزی کے ساتھ دوسری زبان بھی سکھائیں تاکہ ہمارے بچے اچھے انگریزی داں نہ بن سکیں اور سفید فام بچوں سے پیچھے رہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ دلیل کا جواب الزام سے دینا ہے ۔ اگر آپ کو کولمبیا یونیورسٹی کی رپورٹ سے اتفاق نہیں ہے تو آپ دوبارہ ایک نیا سروے کرائیں۔ ۔ اور نئے سروے کے ذریعہ اپنی بات کو ثابت کریں ۔ سروے کا جواب سروے ہے ۔ الزام کبھی سروے کا جواب نہیں بن سکتا ۔ میں ایک سڑک پر ٹہلنے جاتا تھا ۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کشادہ جگہین ہیں جہاں بنچیں لگی ہوئی ہیں ۔ یہاں صبح اور شام کو لوگ آکر بیٹھتے ہیں ۔ ایک روز یہاں ایک سفید فام امریکن سے گفتگو ہوئی ۔ پہلے میں نے یہاں کے سسٹم کی تعریف کی ۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا ایک مائنس پوائنٹ ہے جو پوری نیشن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے ۔ اور وہ ہے فریڈم کا لامحدود تصور ۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہر چیز کی ایک حد (Limit) ہوتی ہے ۔ اور آپ لوگ بھی ہر معاملہ میں اس حد کو مانتے ہیں ۔ مگر فرد کی آزادی کے تصور کو آپ لوگ بے قیدی اور عورت
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues