Al-Risala · October 1998 · page 27

Freedom until infringement upon others’ freedom.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۷

جناب کلیم الدین صاحب جو پتلون پہنے ہوئے تھے ان سے کہا کہ کیا یہ سکھ ہیں : Is he a Sikh? سکھ بہت چھوٹی اقلیت ہیں ۔ مگر انھوں نے اپنی شناخت ساری دنیا میں اس طرح قائم کر رکھی ہے کہ وہ دور سے پہچانے جاتے ہیں ۔ لائبریری میں داخل ہوئے ۔ یہ ایک محل نما تین منزلہ عمارت تھی۔ اس میں ہر قسم کی سہولتیں اور انتظامات اعلیٰ معیار کے ساتھ موجود تھے ۔ تیسری منزل پر مذہب کا شعبہ تھا ۔ وہ بھی کافی جامع تھا ۔ میرے ذہن نے امریکہ کی اس پبلک لائبریری کا تقابل دہلی کی پبلک لائبریری سے کیا تو دہلی کی لائبریری اس کے مقابلہ میں ایسی نظر آئی جیسے راشٹرپتی بھون کی لائبریری کے مقابلہ میں کسی جھگی جھونپڑی کی لائبریری ۔

یہاں ہر قسم کی کتابیں مفت پڑھنے کے لیے دی جاتی ہیں ۔ لائبریری کی وسیع دنیا میں ہر قسم کی علمی سہولتیں موجود ہیں ۔ ہر ضرورت کے لیے کثرت سے کمپیوٹر لگے ہوئے ہیں ، آپ خود انھیں استعمال کریں ، لائبریری کے عملہ کی مدد سے ان سے فائدہ اٹھائیں۔

میں نے کمپیوٹر کے دو تجربے کیے ۔ پچھلے سالوں میں (Living with Islam) کے عنوان سے مغربی جرائد میں کئی مقالے شائع ہوئے ہیں ۔ ہم نے کمپیوٹر سے اس کے حوالے پوچھے ۔ بٹن دباتے ہی اس کی اسکرین پر تمام حوالے آگئے ۔ پھر ہم نے ایک اور بٹن دبائی تو ساتھ لگی ہوئی 'مشین پر ہلکی آواز شروع ہوئی اور ایک مقالہ کا پورا پرنٹ آؤٹ نکل کر باہر آ گیا ۔ پھر دوبارہ بٹن دبائی تو اس نے ایک اور مقالے کا مکمل پرنٹ آؤٹ نکال کر ہمیں دے دیا :

۱- دی اکونومسٹ ۴ اپریل ۱۹۹۲ ۲- دی اکونومسٹ ۱۸ مارچ ۱۹۹۵ یہاں کچھ لوگوں نے زبانی طور پر ایک قصہ بتایا ۔ یہ ایک سفید فام عورت سوسن اسمته (Susan Smith) کا قصہ تھا۔ میں اس قصہ کو حوالے اور تاریخ کے ساتھ زیادہ متعین صورت میں جاننا چاہتا تھا ۔ مجھے عورت کا نام معلوم نہ تھا ۔ یہاں کی ایک خاتون کارکن سے ذکر کیا تو اس نے فوراً اس کا نام بتا دیا ۔ اب کمپیوٹر پر یہ نام بتایا گیا اور فوراً ہی اسکرین پر اس کے بارہ میں تفصیلی معلومات آنا شروع ہو گئیں ۔ اس واقعہ کی رپورٹیں اور اس کے بارہ میں آرٹیکل کثرت

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page