Freedom until infringement upon others’ freedom.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۶
اور مرد کے درمیان فری مکسنگ تک لے گئے ہیں۔ آخر یہاں بھی آپ لوگ حد کو کیوں نہیں قائم کرتے۔ اس نے کہا کہ، ہم تو حد کو قائم کیے ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ آزادی اس وقت تک جب تک وہ دوسرے کی آزادی میں دخل اندازی نہ بنے :
Freedom until infringement upon others’ freedom.
پھر گفتگو کے درمیان اسلام اور مغربی تہذیب کا تقابل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ صرف ایک حد کو مانتے ہیں، اور وہ ہے ڈائرکٹ دخل اندازی۔ مگر اسلام میں ڈائرکٹ کے سوا ایک اور حد کو بھی تسلیم کیا گیا ہے، اور وہ ہے ان ڈائرکٹ دخل اندازی۔ مثلاً ایک عورت اور ایک مرد اگر انفرادی سطح پر ایک دوسرے پر دست درازی نہ کر رہے ہوں تو آپ کے نزدیک اس کے بعد سب کچھ جائز ہے۔ مگر اسلام اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھتا ہے کہ انفرادی آزادی کے استعمال کے اثرات سماجی اور قومی دائرہ میں کیا ہوں گے۔ گویا اسلام نے حد کے تصور کو بالواسطہ اثرات تک وسیع کیا ہے۔ اس نے میری بات کے وزن کو تسلیم کرتے ہوئے کہا : (I think you are right)
۲ ستمبر کو ایک واقعہ ہوا جو امریکہ کے تمام اخباروں میں چھپا۔ یہاں کے ٹمپا ایرپورٹ (Tampa International Airport) پر ایک شخص یو ایس ایر کے جہاز پر سوار ہونے والا تھا۔ مگر اس کا سامان جب ایرپورٹ کے کنوپر بیلٹ (Conveyor belt) سے گزرا تو اس کے ساتھ لگی ہوئی ایکسرے مشین نے بتایا کہ اس کے اندر دھماکہ خیز اشیاء اور گن ہیں۔ مسافر کو فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ یہ ایک ۲۱ سالہ نوجوان رمگین (Roman Regman) تھا۔ وہ ایک مسیحی سیمنری کا طالب علم ہے۔ ریکارڈ کے مطابق وہ ایک گڈ اسٹوڈنٹ تھا۔
یہاں اس طرح کے کئی واقعات ہوئے ہیں جس میں اسلحہ یا بم پکڑا گیا ہے۔ مگر اس میں مسلمان ملوث نہ تھے۔ اس طرح مسلمانوں کی تشدد پسند تصویر میں کسی قدر کمی واقع ہوئی ہے ۔ ۳ ستمبر کی شام کو، ہم لوگ بروکلین پبلک لائبریری دیکھنے کے لیے گئے۔ گیٹ پر پہنچے تو اندر سے ایک سفید فام شخص نکل رہا تھا۔ یہاں عام طور پر لوگ اچانک سوال کرنا پسند نہیں کرتے۔ مگر میرے مختلف حلیہ اور میری پگڑی کو دیکھ کر وہ چپ نہ رہ سکا۔ میرے ساتھی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues