Freedom until infringement upon others’ freedom.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۲۹
سے کمپیوٹر کے اندر فیڈ کیے ہوئے تھے۔ کمپیوٹر نے ان سب کی معلومات ہم کو دینا شروع کر دیا۔ آخر میں، ہم نے دو رپورٹوں کو حاصل کرنے کے لیے کمپیوٹر کا بٹن دبایا۔ اگلے ہی لمحہ پاس رکھی ہوئی مشین پر اس کا پرنٹ آؤٹ نکل کر باہر آگیا۔
یہ واقعہ امریکہ کی سفید فام نسل کے لیے یک بے حد شرم ناک واقعہ ہے۔ مگر وہ کسی کی بیٹی کے بغیر اپنی مکمل صورت میں کمپیوٹر کے خزانہ میں موجود تھا اور کوئی بھی آدمی کسی بھی وقت اس کو بلا قیمت حاصل کر سکتا تھا۔ یہی آزادی اور موضوعیت مغربی ملکوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہاں میں نے ایک غیر یہودی سے پوچھا کہ امریکہ میں یہودی اتنا زیاوہ چھائے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے اور ان کی طاقت کا راز کیا ہے۔ اس نے کہا کہ جہاں تک میرا خیال ہے، یہودیوں پر پچھلی تاریخ میں بہت مظالم ہوئے ۔ خود امریکہ میں بھی شروع شروع میں عیسائی ان پر بہت زیاد تیاں کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں یہودیوں میں ایک قسم کا جذبہ بقا (survival instinct) پیدا ہوگیا۔ چنانچہ وہ ہر معاملہ میں ذمہ داری اپنے آپ پر لیتے ہوئے جینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہاں ملک کی قوت کے لیے بہت کام کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ دینے والا سماج (giver society) بن گئے ہیں۔ اس طرح دھیرے دھیرے ان کے خلاف نفرت ختم ہوگئی۔
ایک طالب علم سے بات کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ یہاں کے اچھے اسکولوں میں بالکل غیر متعصبانہ ماحول ہے۔ مثلاً کوئی یہودی نوجوان اگر ایک واقعہ کو لے کر عربوں کی برائی بتائے تو فوراً کوئی بول دے گا کہ تم جنرلائزیشن کر رہے ہو۔ تم کو آبجیکٹو رہنا چاہیے۔ اس طرح یہاں کے طالب علم کے اندر متعصبانہ ذہن پرورش نہیں پاتا۔
مذکورہ اسباب کی بنا پر میری رائے ہے کہ مغربی تہذیب دجال کا ظہور نہیں، اپنے امکانات کے اعتبار سے وہ اسلام کے حق میں تائیدِ الٰہی کا ظہور ہے۔ اس نے وہ تمام اسباب پیدا کر دیے ہیں جو ادخال الکلمہ کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے۔ اب ہمیں ایک طرفہ طور پر مدافعت کرکے وہ حالات پیدا کرنا ہے جس میں نارمل انداز میں اسلام کی اشاعت ہونے لگے۔ نیو یارک ٹائمس یہاں کا بہت مشہور اخبار ہے۔ دہ (۱۸۵۱) جاری ہوا تھا۔ اس کی پیشانی پر ہر روز یہ جملہ لکھا ہوتا ہے ــــــــ تمام خبریں جو چھاپنے کے قابل ہوں :
‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues