Al-Risala · October 1998 · page 30

All the news thats fit to print.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۰

All the news thats fit to print.

موزوں خبروں کے انتخاب کا فیصلہ کونہن کرے گا۔ اس کا فیصلہ اخباری انڈسٹری کا مفاد (انٹرسٹ) کرے گا نہ کہ خود خبروں کی اپنی نوعیت۔ یہیں سے اخبار یا میڈیا کا رول مکمل طور پر یک رخا ہو جاتا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اخبار ہمیشہ شور یا دھماکہ والی خبروں کو زیادہ لیتا ہے۔ تعمیری خبروں کی اس کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں۔

ایک صاحب کو الرسالہ کی تنقیدوں سے اختلاف تھا۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ میں اور مجھ میں جو فرق ہے وہ صرف یہ کہ آپ لوگوں نے اپنے اکابر کو معیار بنایا ہے اور ہم نے اصحاب رسول کو معیار بنایا ہے۔ انھوں نے اپنے دفاع میں کچھ باتیں کہیں ۔ مثلاً یہ کہ کیا اکابر غلطی پر تھے۔ میں نے کہا کہ آپ یا کوئی شخص جو بھی کہے ، میں اللہ کے فرشتوں کے سامنے جو الفاظ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں وہ یہی ہے کہ اس وقت جب کہ لوگ اپنے اکابر کو معیار بنائے ہوئے تھے، میں نے اعلان کیا کہ اے مسلمانوں ، اصحاب رسول کو معیار بناؤ۔

پھر میں نے کہا کہ آپ کا طریقہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ کیوں کہ اکابر کی کوئی ایک قسم نہیں۔ ہمارے یہاں درجنوں الگ الگ حلقے ہیں اور ہر حلقہ کے اپنے اکابر ہیں۔ اور ہر ایک اپنے ہی اکابر کو معیار سمجھتا ہے۔ پھر آپ کیسے یہ طے کریں گے کہ فلاں گروہ کے اکابر کو مانو اور فلاں گروہ کے اکابر کو مانو۔ مگر اصحاب رسول کا تو ایک ہی گروہ ہے۔ ان کو معیار ماننے کی صورت میں اس قسم کا کوئی مسئلہ سرے سے پیدا نہیں ہوتا۔

آج کل پریذیڈنٹ کلنٹن کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب ۸۰ اصغہ پر مشتمل ہے اور اس کتاب کا نام یہ ہے :

Between Hope and History: Meeting America’s Challenges for the 21st Century. یہ کتاب الیکشن کے مقصد کے تحت لکھی گئی ہے جو نومبر ۱۹۹۶ میں ہونے والا ہے۔ یہاں کتنا زیادہ فکری آزادی ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ۲۴ ستمبر کو میں نے ایک تعلیم یافتہ امریکی سے اس کا ذکر کیا تو اس نے اس کو مایوسانہ (disappointing) قرار دیا۔ اس نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1998 All issues

Printed page