ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
کرے۔ اس آزادی کی بنا پر آدمی اکثر بے خوف ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہاں زیادتی کرنے والے کا ہاتھ فوراً پکڑا نہیں جاتا، اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں جو چاہوں کروں، میرے لئے خطرہ کی کوئی بات نہیں۔
مگر یہ ایک انتہائی بھیانک بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کے کسی عمل کا جو سخت انجام انسان کے سامنے آنے والا ہے، اگر وہ اس کو پیشگی طور پر جان لے تو وہ بولنے کے بجائے خاموشی کو پسند کرے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں اس طرح رک جائیں جیسے کہ ان میں جان ہی نہیں۔
قرآن و حدیث کے مذکورہ بیان کے مطابق، آج کی دنیا میں اگر کوئی شخص کسی آدمی کے خلاف زیادتی کرے، مثلاً وہ اس پر جھوٹا الزام لگائے، وہ اس کے مال و جائیداد پر ناحق قبضہ کرلے، وہ اس کی آبرو ریزی کرے، یا اور کسی قسم کی زیادتی کرے تو یہ معاملہ اسی دنیا میں ختم ہو جانے والا نہیں۔
موت کے بعد جب تمام لوگ قیامت میں اکٹھا کئے جائیں گے تو وہاں ظالم اور مظلوم کا مقدمہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ وہاں ہر آدمی مجبور ہوگا کہ بے بسی کے ساتھ اپنے خلاف فیصلہ کو مان لے۔ خدا کے حکم کے مطابق اس وقت ایسا کیا جائے گا کہ ظالم کے اچھے اعمال اس سے لے کر مظلوم کے خانہ میں ڈال دیئے جائیں گے اور اگر ظالم کے پاس نیکیاں کم ہوں تو مظلوم کی برائیوں کو ظالم کے اوپر ڈال دیا جائے گا۔ اور اس کے بعد ظالم کو جہنم کے بھڑکتے ہوئے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا تا کہ وہ ابد تک اپنے کئے کی سزا بھگتار ہے- آدمی اگر اپنے قول و عمل کے اس بھیانک انجام کو سوچے جو کل سامنے آنے والا ہے تو اچانک اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues