ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴
ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا
قرآن میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ان کا نام ہابیل اور قابیل تھا۔ قابیل ایک بات پر ہابیل سے غصہ ہو گیا۔ اس کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف حسد اور بغض پیدا ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ قابیل ایک روز ہابیل کو جان سے مارنے کے لئے کھڑا ہو گیا۔ ہابیل ایک مخلص اور پاک باز انسان تھا۔ قرآن کے بیان کے مطابق اس نے اپنے بھائی قابیل سے کہا کہ: اگر تم مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لئے تم پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی لے لے پھر تو آگ والوں میں شامل ہو جائے۔ اور یہی سزا ہے ظلم کرنے والوں کی۔ (المائدہ۔ ۲۸-۲۹)
یہی بات حدیث میں اس طرح آئی ہے کہ......... کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو اور نہ دینار۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت میں نماز اور روزہ اور زکاہ کے ساتھ آئے۔ اسی کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی ہو کسی پر الزام لگایا ہو اور کسی کا مال کھایا ہو، اور کسی کا خون بہایا ہو اور کسی کو مارا ہو۔ تو اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی۔ پھر اگر معاملہ برابر ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈال دیئے جائیں گے۔ پھر اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ۴۱۸/۳)
یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس سے آدمی کو ڈرنا چاہئے۔ موجودہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے یہاں ہر انسان کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues