Al-Risala · November 1998 · page 17

سائنسی مزاج

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۷

قانون کو اس کی اصل صورت میں سمجھا جائے ۔ اسی سے وہ چیز پیدا ہو سکتی ہے جس کو حقیقت پسندانہ سوچ کہا جائے ۔ اس سے آدمی اس قابل ہو سکتا ہے کہ چیزوں کے بارے میں وہی رائے قائم کرے جو کہ بطور واقعہ ہونا چاہئے۔ اسی کا نام سائنسی مزاج ہے، اور وہی لوگ اس دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں جن کے اندر اس قسم کا مزاج پایا جاتا ہو۔ سائنسی سوچ دراصل اس سوچ کا نام ہے جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔ اس کا تعلق مادی دنیا سے بھی ہے اور انسانی دنیا سے بھی۔ مثال کے طور پر آپ کو ایک دریا کے اوپر پل بنانا ہے۔ اب سائنسی طریقہ یہ ہو گا کہ آپ موم کے ذریعہ اپنا یہ پل نہ بنائیں، بلکہ لوہے کے ذریعہ بنائیں۔ اسی طرح آپ کو غلہ کی فصل اگانی ہے تو آپ غلہ کا بیج زمین میں ڈالیں نہ کہ پتھر یا پلاسٹک کے ٹکڑے اپنے کھیت میں بکھیر دیں۔

یہی معاملہ انسانی دنیا کا بھی ہے۔ انسانی دنیا میں بھی کوئی نتیجہ اس وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب کہ اس میں متعلقہ حقائق کی پوری رعایت کی گئی ہو۔ بصورت دیگر ظاہری کوشش کے باوجود مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں۔

آپ کسی کو اپنا حامی بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس کے ضمیر کو متحرک کرنا ہو گا۔ اگر آپ اس کی انا کو چوٹ پہنچائیں تو وہ برعکس طور پر آپ کا دشمن بن جائے گا۔ اگر آپ دوسروں سے کچھ پانا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ کرنا ہوگا کہ دوسروں کی نظر میں آپ دینے والے بن جائیں، کیونکہ لوگ اسی کو دیتے ہیں جس سے انہیں خود بھی مل رہا ہو۔ اگر آپ لوگوں کے درمیان عزت کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تواضع کی روش اختیار کرنی پڑے گی۔ کیونکہ عزت کا مقام تواضع کرنے والے کو ملتا ہے نہ کہ گھمنڈ کرنے والے کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page