Al-Risala · November 1998 · page 18

سفر امریکہ ۴

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۸

سفر امریکہ ۴

، ستمبر کو دوبارہ مذکورہ ہندو صاحبان دو اور صاحبان کو لے کر آئے۔ یہ ڈاکٹرامت باروٹ (757-5382108 Tel) اور مسٹر جینت باروٹ (4830370 .Tel) تھے۔ ان لوگوں سے دیر تک بات ہوتی رہی۔ یہ سب سوادھیائے تحریک سے جڑے ہوئے لوگ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پورے امریکہ میں سوادھیائے کے ۳۰ سنٹر (کیندر) ہیں۔

ڈاکٹر نجم اختر صاحب امریکہ میں اپنا موجودہ کام چھوڑ کر سعودی عرب کی ایک یونی ورسٹی میں جا رہے ہیں۔ وہاں وہ ٹیچنگ جاب کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے مقابلے میں امریکہ کی تنخواہ ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ انھوں نے جب یہاں کا کام چھوڑنے کے لیے کہا تو کمپنی کے یہودی چیرمین نے انھیں پیش کش کی کہ، ہم تمہاری سالانہ تنخواہ میں پانچ ہزار ڈالر زیادہ کر دیں گے، تم یہاں سے مت جاؤ۔

پھر ڈاکٹر نجم اختر صاحب کیوں یہاں سے جا رہے ہیں۔ اس کا دو سبب ہے۔ ایک بچوں کا مسئلہ۔ ان کا خیال ہے کہ یہاں کے آزاد ماحول میں ان کے بچے خراب ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ کا جذبہ بہت قابل قدر ہے، مگر اس کا تعلق نقل مکانی سے نہیں۔ آپ اپنی اگلی نسل کو اس سے روک نہیں سکتے۔ بڑے ہونے کے بعد آپ کے بیٹے اور پوتے دوبارہ یہیں آئیں گے، جیسا کہ دوسروں کے بیٹے اور پوتے کر رہے ہیں۔

دوسری بات ان کے ذہن میں یہ ہے کہ امریکہ میں اپنی صلاحیتوں کو میں ”دشمن“ کے حق میں مفید بنا رہا ہوں یہاں اور بھی بہت سے نیک دل مسلمان ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں اور اس بنا پر یہاں سے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ مگر مجھے اس طرز فکر سے اتفاق نہیں۔ اس طرز فکر کا سبب یہ ہے کہ یہ مسلمان ان ”اغیار“ کو دشمنِ اسلام کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ حالانکہ خود یہ طرز فکر اسلام کے حق میں سب سے بڑی دشمن ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کو مدعو سمجھیں اور ان سے مدعو والا معاملہ کریں۔

اگر مذکورہ فکر کو اختیار کیا جائے تو کبھی بھی دعوت کا عمل شروع نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ داعی کے مقابلے میں مدعو ہمیشہ برتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ وہ داعی کا استحصال کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت کا عمل صرف اس وقت شروع ہو گا جب کہ معاملہ کو اس ذہن سے نہ دیکھا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1998 All issues

Printed page