توکل کی حقیقت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۴
توکل کی حقیقت
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آپ سے توکل علی اللہ کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر خدا پر توکل کروں یا اونٹ کو چھوڑ دوں اور پھر توکل کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اونٹ کو باندھو اور پھر خدا پر توکل کرو ( یا رسول اللہ ! اعقلھا أو توكل (أو أطلقھا و أتومل فال اعقلھا و توکل) الترمذي یہاں یہ سوال ہے کہ اونٹ کو باندھنے کے بعد توکل کیوں۔ بظاہر تو کل یہ ہونا چاہیے کہ آدمی اپنے معاملے کی تدبیر نہ کرے، اور یہ بھروسہ رکھے کہ خدا اس کے معاملے کو درست کر دے گا۔ جب آدمی خود ہی اپنے معاملے کی پوری تدبیر کر رہا ہو تو ایسی حالت میں بظاہر ہر خدا پر بھروسہ ایک غیر ضروری امر دکھائی دیتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ کسی کام کی تکمیل کے لیے ہمیشہ دو طرح کے عوامل ہوتے ہیں۔ ایک، معلوم عوامل جو انسان کے اپنے بس میں ہوتے ہیں۔ دوسرے، غیر معلوم عوامل، جن کو انسان نہ جانتا ہے اور نہ ان کا اہتمام کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی واقعہ ہمیشہ ان دونوں قسم کے اسباب کی یکجائی اور موافقت سے انجام پاتا ہے۔ اگر ایک نوعیت کے عوامل موجود ہوں اور دوسری نوعیت کے عوامل موجود نہ ہوں تو اس دنیا میں کبھی کوئی واقعہ ظہور میں نہیں آسکتا۔
مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے بس والے ظاہری اسباب کو استعمال کرنے میں کمی نہ کرے، وہ اپنی سمجھ اور اپنی طاقت کے مطابق اس کا پورا اہتمام کرے۔ اس اہتمام کے بعد وہ دعا کرے کہ خدایا، جو کچھ میرے بس میں تھا وہ میں نے کر دیا۔ اب جو کچھ میرے بس میں نہیں ہے ان کے لیے تو میری طرف سے کافی ہو جا، بقیہ اسباب جو تیرے اختیار میں ہیں ان کو بھی تو میری موافقت میں جمع کر دے۔ یہی مطلب ہے اس اسلامی مقولہ کا کہ ( السعى مني وَالإتْمامُ من الله (کوشش میری طرف سے، اور اس کو تکمیل تک پہنچانا خدا کی طرف سے)
آدمی خواہ کتنا ہی کوشش کرے پھر بھی کچھ اسباب اس کے دائرہ سے باہر رہتے ہیں۔ آدمی اپنی کوشش میں صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جبکہ یہ بقیہ اسباب خدا کی مدد سے اس کے موافق ہو جائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues