Al-Risala · February 1998 · page 5

نیوز ۲۴

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۵

نیوز ۲۴

بی بی سی لندن نے اپنے ٹی وی پر ایک نیا چینل شروع کیا ہے۔ اس کا نام نیوز ۲۴ (News-24) ہے ۔ وہ ۲۴ گھنٹہ چلے گا اور رات دن کے ہر لمحہ میں اہل برطانیہ کو خبریں فراہم کرتا رہے گا ۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو اچانک میرے دماغ میں آیا کہ اسی قسم کا ایک اور زیادہ بڑا، ہمہ وقتی چینل ہے جو نہ صرف رات دن چل رہا ہے بلکہ وہ کروڑوں سال سے جاری ہے۔ مزید یہ کہ وہ کسی ایک ملک کو خبریں دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ سارے عالم کو اور تمام انسانی نسلوں کو مسلسل خبریں دے رہا ہے ۔ یہ کائناتی ٹی وی وہ ہے جس کو خود کائنات کے خالق نے قائم کیا ہے ۔ دنیا کی ہر چیز، پہاڑوں اور سمندروں سے لے کر درخت کے پتوں اور صحرا کے ذروں تک ہر چیز گویا اس کائناتی خبر رسانی کے نظام کا ٹی وی سیٹ ہے ۔ کائنات کی تمام چیزیں ہر لمحہ یہ پیغام دے رہی ہیں کہ یہ کائنات کس لیے پیدا کی گئی ہے۔ انسان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور انسان کا مستقبل آخر کار کس چیز سے وابستہ ہے۔ پہاڑ اور درخت جیسی چیزیں اگر خاموش زبان میں یہ خبریں دے رہی ہیں تو سمندر کی موجیں اور چڑیوں کے چہچہے اس خبر کو بلند آواز میں نشر کر رہے ہیں ۔

انسان کی تخلیق اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ وہ اس عالمی خبر رسانی سے بھر پور استفادہ کر سکے۔ انسان کو آنکھیں اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ اس خدائی ٹی وی کے مناظر کو دیکھے۔ انسان کو جو کان دیے گئے ہیں وہ اسی لیے ہیں کہ وہ اس نشریاتی نظام کی آوازوں کو سنے۔ انسان کو دماغ اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ اس مشاہدہ اور سما عت کا تجزیہ کر کے ان سے سبق حاصل کرے۔ انسان کو دل اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ ان ربانی خبروں پر تڑپے۔ انسان کو ہاتھ اور پاؤں اس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ ان خبروں کے مطابق ہمہ تن متحرک ہو جائے۔

جنت ان لوگوں کے لیے ہے جو خدائی خبر رسانی کے اس عالمی نظام سے رہنمائی حاصل کریں۔ اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنالیں۔ اس کے برعکس جہنم ان لوگوں کے لیے ہے جو اس رہنمائی کو لینے میں ناکام رہیں۔ ایسے لوگ گویا کہ اندھے اور بہرے ہیں۔ وہ مستقبل کی ابدی زندگی میں بھی اندھے اور بہرے بنے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page