Al-Risala · December 1998 · page 4

توحید، عدل

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴

توحید، عدل

اسلام کی تعلیمات دو بنیادی اصولوں پر قائم ہے ۔ ۔ توحید اور عدل۔ توحید کا مطلب ہے خدا کو ایک مان کر اپنے آپ کو ہمہ تن اس کے حوالے کر دینا۔ اور عدل کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان معاملات کرتے ہوئے ترازو کی طرح ٹھیک ٹھیک حق کے موافق رویہ اختیار کیا جائے۔ توحید حقیقہ یہ ہے کہ ایک انسان خدا کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اس کے قلب و روح میں سما جائے۔ خدا اس کی آنکھ کا نور ہو، جس سے وہ دیکھے۔ وہ اس کا دماغ ہو، جس سے وہ سوچے ۔ وہ اس کا مقصودِ اعلیٰ ہو، جو اس کی زندگی کا مرکز و محور بن جائے۔ عدل کے عنوان کے تحت انسان کی جو ذمہ داری ہے اس کی دو صورتیں قرآن سے معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر فرد اپنے ذاتی معاملات میں عادل بن جائے۔ اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ بالکل ترازو کی مانند ہو، جو ہمیشہ ٹھیک ٹھیک تولتا ہے، نہ کم اور نہ زیادہ (اقیموا الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان)

عدل کی دوسری صورت وہ ہے جو صاحبِ اختیار افراد کے ساتھ مخصوص ہے۔

قرآن میں ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت داؤد سے فرمایا کہ اے داؤد، ہم نے تم کو زمین پر با اقتدار بنایا ہے۔ پس تم لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کرو (ص ۲۶) قرآن کے مطابق، ہر آدمی اپنے حاصل شدہ دائرہ کے اعتبار سے مکلف ہے۔ ایک آدمی کا اختیاری دائرہ محدود ہو تو اس کو اپنے اس محدود دائرہ کے اعتبار سے عادلانہ اصول پر قائم رہنا چاہئے۔ اس کے مقابلہ میں جس آدمی کا اختیاری دائرہ حکومت و اقتدار تک پہنچ جائے اس پر لازم ہو گا کہ وہ اپنے اس تو وسیعی دائرہ میں اپنے آپ کو عادل اور منصف ثابت کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page