پانچ ارکان
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۵
پانچ ارکان
حدیث میں آیا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ عقیدہ توحید، اقامت صلوٰۃ، روزہ، زکوٰۃ، حج۔ یہ پانچ ارکان صرف مذہبی ارکان نہیں ہیں۔ وہ دین اور دنیا دونوں قسم کی ترقی کی ضمانت ہیں۔ توحید کا عقیدہ ایک اعتبار سے خدا کے ساتھ انسان کے سچے تعلق کا اظہار ہے اور دوسرے اعتبار سے زندگی کی جدوجہد میں اعتماد و یقین کی مستحکم بنیاد عطا کرتا ہے۔ اور یقین و اعتماد بلاشبہ موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ نماز ایک اعتبار سے خدا کی عبادت ہے۔ اس کے ذریعہ بندہ رات دن کے لمحات میں خدا سے ربط قائم کرتا ہے۔ دوسرے اعتبار سے وہ منظم زندگی (disciplined life) کی تربیت ہے اور ڈسپلن بلاشبہ موجودہ دنیا میں کامیابی کی لازمی شرط ہے۔ روزہ ایک اعتبار سے مومن کی سالانہ عبادت ہے۔ دوسرے اعتبار سے وہ صبر و برداشت کی تربیت ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ صبر و برداشت کے بغیر موجودہ دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا ممکن نہیں۔ زکوٰۃ ایک اعتبار سے بندۂ مومن کی مالی عبادت ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز پر خدا کا شکرانہ ہے۔ دوسرے اعتبار سے وہ اجتماعی زندگی کو نفع بخشی کے اصول پر قائم کرنے کی ایک تدبیر ہے۔ زکوٰۃ اس بات کا سبق ہے کہ لوگ صرف لینے والے نہ بنیں بلکہ دینے والے بھی بنیں۔ اور یہی وہ مزاج ہے جو کسی سماج کو بہتر سماج بنانے والا ہے۔ حج ایک اعتبار سے گویا جامع عبادت ہے۔ اس میں عبادت کی نوعیت کے تمام تجربات اکٹھا کردیے گئے ہیں۔ دوسرے اعتبار سے حج عالمی سیاحت کا تجربہ ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ پھیلی ہوئی دنیا کو چل پھر کر دیکھے اور اس سے نصیحت حاصل کرے۔ وہ مقامی شخصیت سے اٹھ کر عالمی شخصیت بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues