Al-Risala · December 1998 · page 13

مسیح کا کردار

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳

مطلوب تھا کہ ان کو بے نقاب (expose) کیا جائے ۔ ان کی ظاہری دینداری کے پیچھے چھپی ہوئی بے دینی کو کھول کر نمایاں کر دیا جائے۔

اس وقت کے یہودی آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہر قسم کی بے انصافیاں کر رہے تھے۔ مگر یہ واقعات ان کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لئے کار آمد نہ تھے، کیوں کہ وہ دو طرفہ تھے۔ ان واقعات میں دونوں فریق بے انصافی کا شکار ہوتے تھے۔ اور جس واقعہ میں دونوں ہی فریق نے بے انصافی کر رکھی ہو وہ کسی کی اصل حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہیں ہو سکتا تھا۔

اس واقعہ کے لئے ایک ایسا انسان درکار تھا جو خود مکمل طور پر بے قصور ہو، اس کے باوجود لوگ اپنے سرکشی اور بے انصافی کے مزاج کے بنا پر اس کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے ڈھیٹ ہوجائیں۔ اس وقت کے فلسطین میں اس قسم کا انسان صرف ایک تھا۔ اور وہ وہی شخصیت تھی جس کو مسیح ابن مریم کہا جاتا ہے۔

حضرت مسیح آخری حد تک ایک پاک اور بے قصور انسان تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائی۔ البتہ انھوں نے یہ کیا تھا کہ انھوں نے یہودیوں کے خود ساختہ دین پر تنقیدیں کیں۔ انھوں نے ان کے خود ساختہ اکابر کو اصاغر بتایا۔ انھوں نے یہودیوں کے مز عومات کا غیر دینی ہونا ثابت کیا۔ تاہم یہ امر حق کا لفظی اعلان تھا نہ کہ کوئی قابل دست اندازی جرم۔ یہودی ان کی باتوں کا جواب دلیل کی زبان سے دے سکتے تھے۔ مگر ان کے بڑوں نے حضرت مسیح کی ان باتوں کو لیکر یہودی عوام کو بھڑکایا۔ یہاں تک کہ قوم کی اکثریت کو ان سے بد ظن کر دیا۔

حضرت مسیح کو بد نام کرنا بھی ان کے وجود کو اور ان کے مشن کو ختم کرنے کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page