Al-Risala · December 1998 · page 14

مسیح کا کردار

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴

کافی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور مجرمانہ منصوبہ بنایا۔ اس وقت فلسطین میں رومیوں کی حکومت تھی۔ یہودیوں نے یہ کیا کہ حضرت مسیح پر بے بنیاد الزام لگا کر ان کو رومی عدالت کے سامنے کھڑا کر دیا۔ انھوں نے چاہا کہ رومیوں کے ہاتھوں حضرت مسیح کو قتل کروادیں۔ مگر خدا نے ان کو اس انجام سے بچا لیا۔

حضرت مسیح کی یہ کہانی کوئی انفرادی کہانی نہیں۔ یہ خدا کی ایک سنت کی مثال ہے۔ جب بھی کسی قوم میں مذکورہ قسم کا بگاڑ آجائے تو خدا اس کے بگاڑ کو بے نقاب کرنے کے لئے کسی پاکباز انسان کو کھڑا کرتا ہے جو مسیح کا کردار ادا کر کے لوگوں کی حقیقت کو بے نقاب کرے۔

بگڑے ہوئے معاشرے میں ایک بے قصور انسان ہی اس بات کا تاریخی ثبوت بن سکتا ہے کہ اس نے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا۔ اس کے باوجود لوگ اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہوگئے۔ اس پر جھوٹے الزام لگائے گئے۔ اس کو بدنام کر کے عوام سے اس کو کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ اس کو جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا۔ یہ سب کچھ مسلسل طور پر اور علانیہ طور پر ہوتا رہا مگر وقت کے دینی ٹھیکیدار خاموش رہے۔ شیوخ کی خانقاہوں میں اس کی وجہ سے کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ مفتیوں نے اس کے خلاف فتوے صادر نہیں کئے۔ جو علماء دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے انھوں نے ان غیر انسانی اور غیر دینی معاملات کو جانا، مگر وہ مسلسل حدیث کی زبان میں گونگے بنے رہے۔

کسی بگڑی ہوئی قوم کو اس طرح بے نقاب کرنا صرف ایک معصوم اور بے قصور انسان کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح کے ذریعہ اپنا یہی منصوبہ پورا کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page