مغربی تہذیب اور اسلام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۰
مغربی تہذیب کے حاملین کے ذریعہ عالم فطرت کے بے شمار نئے حقائق سامنے آئے ہیں جوکہ اسلام کی صداقت کو خالص علمی بنیادوں پر درست ثابت کر رہے ہیں ۔ مذکورہ اسباب کی بنا پر میری قطعی رائے ہے کہ مغربی تہذیب دجال کا ظہور نہیں ، اپنے امکانات کے اعتبار سے وہ اسلام کے حق میں تائید الہی کا ظہور ہے۔ اس نے وہ تمام اسباب پیدا کر دیے ہیں جو ادخالُ الکلمہ کی مہم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ان امکانات کو استعمال کرتے ہوئے یہ کام بخوبی طور پر انجام دیا جا سکتا ہے ۔ یہ پر اس س بالفعل شروع ہو چکا ہے۔ آج ہر دن ہزاروں لوگ اسلام کو دین فطرت پا کر اس کو قبول کر رہے ہیں۔ حدیبیہ کا معاملہ طے ہونے کے بعد قرآن کی سورہ الفتح اتری تھی اس میں کہا گیا کہ :
that it may be a sign for the believers, and that He may guide you to a straight path. (48:20)
دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ معاملہ اس لیے ہوا تا کہ تم کو ایک علامتی واقعہ کی صورت میں بتایا جائے کہ اس طرح کے معاملات میں تم dichotomy میں گرفتار نہ ہو بلکہ تیسرا راستہ تلاش کرو۔ یہ حدیبیہ پرنسپل ہے اور مغربی تہذیب کے معاملہ میں ہمیں اسی حدیبیہ پرنسپل کو اختیار کرنا ہے۔ اس کے بعد خدا کی یہ بشارت ہمارے اوپر صادق آئے گی کہ ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی (48:1) WOMAN BETWEEN ISLAM AND WESTERN SOCIETY By Maulana Wahiduddin Khan The status of woman in Islam is the same as that of man. Injunctions about honour and respect enjoined for one sex are enjoined equally for the other sex. So far as rights in this world and rewards in the Hereafter are concerned, there is no difference between the sexes. In the organization of daily living, both are equal participants and partners. Yet Islam sees man as man and woman as woman and, considering the natural differences, it advocates the principle of the division of labour between the two sexes rather than the equality of labour. 22 x 14.5 cm, 256 pages, ISBN 81-85063-75-3, Rs. 95
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues