مغربی تہذیب اور اسلام
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۹
لیے اس نوعیت کی کچھ تائیدی چیزیں مختصر طور پر بطور مثال ذکر کی جاتی ہیں۔ ١۔ ادخال الکلمہ کے لیے سب سے پہلی ضروری چیز جو درکار تھی وہ کمیونی کیشن کے عالمی ذرائع ہیں۔ اور یہ ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ مغرب کا لایا ہوا تہذیبی انقلاب انسانی تاریخ کا وہ پہلا واقعہ ہے جس نے اس قسم کے عالمی کمیونی کیشن کو ہماری دسترس دے دیا جو اس عمل کی تکمیل کے لیے ناگزیر طور پر درکار تھا۔
٢۔ دوسری لازمی ضرورت کھلی مذہبی آزادی تھی۔ اگر مذہبی آزادی نہ ہو تو مطلوب نوعیت کی کامیاب عالمی پیغام رسانی ممکن نہیں۔ یہ بھی مغربی تہذیب ہی کی دین ہے کہ اس نے ایک ایسا دور پیدا کیا جہاں تاریخ میں پہلی بار مذہبی آزادی کو انسان کے مقدس حق کے طور پر مان لیا گیا۔ ٣۔ ادخال الکلمہ کی اسکیم کو عالمی سطح پر مکمل کرنے کے لیے بے پناہ دولت درکار تھی۔ یہ چیز بھی مغربی تہذیب ہی کے ذریعہ بالواسطہ طور پر مسلم ملکوں کو حاصل ہوئی ہے۔ یہ مغربی تہذیب ہی کے حاملین تھے جنھوں نے مسلم ملکوں میں پٹرول کی دولت دریافت کی۔ پھر یہی لوگ ہیں جنھوں نے جدید مشینی دور پیدا کر کے اس پٹرول کو قیمتی (commodity) کی حیثیت دے دی۔ اس طرح سے حاصل شدہ دولت نے مسلمانوں کو آج اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ ادخال الکلمہ کی عالمی مہم کی بڑی سے بڑی قیمت دے کر اسے جاری رکھ سکیں۔
۴۔ مغربی تہذیب کے ذریعہ حاصل شدہ تائیدوں میں سے ایک تائید یہ ہے کہ اس نے پہلی بار فری انکوائری کے اصول کو کامیابی کے ساتھ مقدس کتابوں تک وسیع کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری تمام مذہبی کتابیں میں غیر تاریخی ثابت ہو گئیں۔ اب استثنائی طور پر صرف قرآن ایک تاریخی طور پر ثابت شدہ کتاب کی حیثیت سے باقی رہا۔ اس طرح مغربی تہذیب کے پیدا کردہ علمی انقلاب نے اسلام کو مناپلی کے درجہ میں مذہب کا واحد قابل اعتبار نمائندہ بنا دیا۔
۵۔ پھر یہ مغربی تہذیب ہی ہے جس نے فطرت کے چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا جو کہ قرآن کی سچائی کی تصدیق کرنے والے تھے۔ اس طرح مغربی تہذیب ہی کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے قرآن کی اس آیت کی سائنسی تفسیر لکھی کہ ــــــــــ ہم انھیں آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ یہ حق ہے (41:53)
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues