Al-Risala · December 1998 · page 33

In India you cannot get pure milk.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۳

سے بد تر ہے۔ اگر میں کہتا کہ امریکہ میں دعوت کے مواقع ہیں تو وہ فوراً بناتے کہ یہ تو ایک گہری سازش ہے جو یہودی دماغ کی پیدا وار ہے۔ چند دن کے تجربہ کے بعد میں نے انھیں ایک کاغذ لکھ کر دیا جس میں حسب ذیل الفاظ درج تھے :

You have a unique expertise of turning the positive into negative. In contrast, I always try to seek out the positive aspect among the most obviously negative circumstances. ۱۲ ستمبر کی شام کو محمد حسین صاحب کے ساتھ ماؤنٹ ہالی سے ٹرنٹن کے لیے روانگی ہوئی۔ ٹرنٹن کی مسجد میں ہم لوگ پہنچے تو مغرب کی اذان ہورہی تھی۔ یہاں مغرب کی نماز کے بعد خطاب کا پروگرام تھا۔ یہ خطاب انگریزی میں ہوا۔ کیونکہ حاضرین زیادہ تر انگریزی داں تھے۔ میں نے اتحاد کے موضوع پر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اس مسجد میں اس وقت مختلف ملکوں کے لوگ موجود ہیں۔ انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش ، عرب ، مصر، وغیرہ۔ مگر تمام لوگوں نے مل کر ایک امام کے پیچھے نماز ادا کی۔ اس طرح نماز ہم کو اتحاد کا سبق دیتی ہے۔ نماز کا سبق یہ ہے کہ تم لوگ اپنے میں سے ایک کو امام بنا کر سب لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہو جاؤ۔ چنانچہ ایک کو چھوڑ کر تمام کے تمام لوگ بیک سیٹ پر چلے جاتے ہیں تب جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا ممکن ہوتا ہے۔ یہی سبق ہمیں مسجد کے باہر بھی دہرانا ہے۔ باہر کی زندگی میں بھی ہمیں یہی کرنا ہے کہ ایک کو لیڈر مان کر تمام لوگ اس کی ماتحتی قبول کر لیں۔ یہی اتحاد کا اصل راز ہے۔

ڈاکٹر سید اسد علی (نفسیاتی ڈاکٹر) سے مسجد میں ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے پوچھا کہ یہاں تمام شادیاں لو میرج کی بنیاد پر ہوتی ہیں ، اس کے باوجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ پچاس فی صد سے زیادہ کیسوں میں طلاق ہو جاتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ بڑی وجہ بوریت ہے۔ یہاں کے لوگوں کا نظریہ لذت ہے۔ چنانچہ ایک عرصہ کے بعد دونوں ایک دوسرے سے بور ہو جاتے ہیں اور پھر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ، یہ جھگڑے تفریق تک پہنچ جاتے ہیں۔ دو آدمی بات کر رہے تھے۔ ایک صاحب کی آواز میرے کان میں آئی کہ انڈیا میں آپ خالص دودھ حاصل نہیں کر سکتے :

In India you cannot get pure milk.

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page