Al-Risala · December 1998 · page 32

These are facts, these are opinions.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۲

شریعت سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بار بار اس کا نمونہ ملتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کا قول ہے کہ "لیس العامل الذی يعرف الخبيث من الشر وَلَكِنَّهُ الذي يعرف خير الشرين"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں صرف دو پہلو (خیر یا شر) نہیں ہوتا۔ بلکہ اسی کے ساتھ ایک تیسرا پہلو خیر الشرین کا ہوتا ہے۔ جو آدمی صرف یہ جانتا ہو کہ معاملات میں ہمیشہ یا تو خیر کا پہلو ہے یا شر کا پہلو، وہ ہمیشہ خیر کو حاصل کرنے کے نام پر شر سے ٹکراتا رہے گا، اور ساری قربانیوں کے باوجود عملاً کچھ بھی حاصل نہ کر سکے گا۔ کیوں کہ جس خیر کو حاصل کرنے کے نام پر قربانیاں دے رہا تھا وہ سرے سے قابل حصول ہی نہ تھا۔

اس قول میں بتایا گیا ہے کہ اُس دنیا میں بیشتر حالات میں چوائس خیر اور شر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ آدمی کے لیے ایک ایسی تیسری چیز کا چوائس ہوتا ہے جو بڑے شر کے مقابلہ میں چھوٹے شر کی حیثیت رکھتی ہو۔

امریکہ کے زمانہ قیام میں ایک سے زیادہ بتانے والوں نے مجھے بتایا کہ یہاں اب یہ حال ہو چکا ہے کہ بیٹا ایک گرل فرینڈ لے کر گھر میں آتا ہے یا بیٹی ایک بوائے فرینڈ کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوتی ہے تو ماں باپ اس کو روک نہیں سکتے۔ حتیٰ کہ اب ایسی مثالیں سامنے آ رہی ہیں کہ باپ اپنی بیٹی سے کہتا ہے کہ تم کو ڈیٹنگ (dating) کرنا ہے تو کسی مسلمان لڑکے سے کرو، ہندو یا عیسائی لڑکے کے ساتھ مت کرو۔

ایک صاحب کے یہاں کھانا تھا۔ غالباً غالباً روٹی یا اور کوئی چیز نقصان کر گئی۔ میرا پیٹ کچھ خراب ہو گیا ۔ میں نے دوسرے وقت کا کھانا چھوڑ دیا۔ میرے میزبان نے کھانے کے لیے کہا تو میں نے کہا کہ ۔ اس کے علاج کا میرے پاس ایک سادہ نسخہ ہے، اور وہ ہے ۔ ۔۔ فاقہ سے افاقہ امریکہ کے سفر میں کئی دن تک ایک صاحب کا ساتھ رہا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ اور اسلام اور مسلمانوں کے معاملہ میں مخلص بھی تھے۔ مگر ان کے اندر منفی طرزِ فکر اتنا زیادہ سما گیا تھا کہ وہ عجیب و غریب طور پر ہر واقعہ کو اپنے منفی سانچہ میں ڈھال لیتے تھے۔ جب میں کہتا کہ امریکہ میں مذہبی آزادی ہے تو فوراً وہ کچھ انکشافات بتا کر کہتے کہ یہ ظاہری آزادی حقیقت میں غلامی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page