Al-Risala · December 1998 · page 35

In India you cannot get pure milk.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵

اس دوقسمی طرزِ فکر کی بنا پر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ شرعی نظام کہیں قائم نہیں ہے۔ اس لیے ساری دنیا سے لڑونا کہ دوبارہ شرعی نظام قائم ہو۔ ان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ عمل کی ایک تیسری صورت بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ طے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنائیں، اُن کے اخلاق کو درست کریں۔ غیر مسلم قوموں میں توحید اور آخرت کا پیغام پہنچائیں۔ جناب کلیم الدین صاحب الرسالہ کی مطبوعات اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ انھوں نے انگریزی کتابوں کا ایک سیٹ فلا ڈلفیا کے اس ادارہ باوامحی الدین فیلو شپ (8796300 - 215 .Tel) کو دیا۔ ان لوگوں نے بھی اپنی مطبوعات کا ایک سیٹ ہم کو دیا۔ ان کے نام یہ ہیں : 1. Who is God? pp. 10 2. A book of God's Love, pp. 116. 3. Islam and World Peace: Explanations of a Sufi, pp. 164. 4. Treasures of Wisdom, pp. 18. 5. The Golden Words of a Sufi Sheik, pp. 488. صوفی اسلام اہلِ مغرب کو بہت اپیل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فلسفیانہ تصورات سے بہت قریب ہے۔ بیشتر فلاسفہ حقائق کو ایک وحدت کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ اور تصوف کسی نہ کسی طور پر وحدت الوجود کا قائل ہے۔ اس طرح دونوں میں ایک یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ”گولڈن ورڈز“ میں باوامحی الدین کے نقطہ نظر کو انگریزی میں اس طرح بیان کیا گیا تھا : God is within man and man is within God. ۱۴ ستمبر کی صبح کو فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ الم نشرح پڑھائی۔ اس تقریب سے میں نے ان مع العسر یسراً کی تشریح کی پرابلم کے ساتھ مواقع۔

حاضرین میں ڈاکٹر سلیمان افریقی بھی تھے جو ہو ورڈ یونیورسٹی (واشنگٹن) میں پروفیسر ہیں۔ انھوں نے مکمل اتفاق کیا۔

چائے پر کچھ دیر تک مزید نشست ہوئی ۔ تقریباً ۱۰ آدمی تھے۔ دوبارہ اسلامی مضمون پر گفتگو ہوتی رہی۔ 9 بجے صبح ہم لوگ یہاں سے روانہ ہوئے۔ ساتھ میں کلیم الدین صاحب، عرفان انیس صاحب ، بلال صاحب تھے۔ ماونٹ ہالی سے روانہ ہو کر ہم فلا ڈلفیا پہنچے۔ ۱۵ ستمبر کو ۱۰ بجے صبح کا وقت تھا جب ہم لوگ باوامحی الدین سنٹر (فلا ڈلفیا) پہنچے۔ جب

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page