In India you cannot get pure milk.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۶
ہم لوگ داخل ہو رہے تھے تو دو سفید فام مسلمان (محمد لطیف، محمد صالح) باہر آ رہے تھے۔ اس طرح کے بہت سے سفید فام امریکی ہیں جو بابا کی تبلیغ سے مسلمان ہو گئے۔ آج اتوار تھا اس لیے بہت سے عورت مرد یہاں موجود تھے۔ یہ سب نو مسلم تھے۔ یہ ایک خوب صورت منظر ہے۔ اس کے اندر ایک خوب صورت آڈیٹوریم تھا۔ بابا محی الدین یہاں ہرے رنگ کی ایک کرسی پر بیٹھ کر صوفیانہ گیت گاتے تھے۔ اس کا ریکارڈ تیار کر لیا گیا تھا۔ وہ یہاں بجایا جا رہا تھا۔ یہ گیت نامعلوم زبان میں ہوتا تھا۔ ساتھ ساتھ ایک خاتون اس کا انگریزی ترجمہ کرتی جا رہی تھی۔
یہاں ایک صاحب نے بتایا کہ بابا محی الدین لنکا کے کسی جنگل سے آئے۔ گیت بہت پر تقعہ بھی تھا اور پر درد بھی۔ میرا قیاس تھا کہ ان کے یہ گیت جس میں نغمہ بھی تھا، درد بھی اور روحانیت بھی، اس کی خوش کن آواز یہاں کے سفید فام امریکن کو متاثر کرتی تھی۔ کیو نکہ یہ لوگ بہت اثر پذیر طبیعت کے حامل ہوتے ہیں۔ ابتدا اس سے متاثر ہوئے اور پھر اسلام کا مزید مطالعہ کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔
بابا اورکز کے اوپر کے حصہ میں ایک خوب صورت مسجد ہے۔ یہ مستقل تعمیر نہیں ہے بلکہ مختلف مکانوں کو خرید کر ان کے مجموعہ سے ایک مرکز بنا لیا گیا ہے۔ مسجد کے موذن عبداللہ نام کے افغانی تھے۔ میں نے کہا ” افغانستان ایک خوب صورت ملک ہے “ عبداللہ صاحب نے ایک آہ بھر کر کہا۔ ہاں وہ تھا (It was)
بابا محی الدین سنٹر پورا کا پورا نہایت منظم اور نہایت صاف ستھرا تھا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان سے سفید فام لوگ متاثر ہوں۔
بابا محی الدین سنٹر کے باہر ایک بورڈ پر خوب صورت حروف میں لکھا ہوا ہے ۔ صبر کے سمندر میں موجیں نہیں :
"The Ocean of Patience has no waves."
پہلے خاموش پر امن تبلیغ کی۔ جب حلقہ بن گیا، اس کے بعد مسجد بنائی خوب صورت مسجد۔ مسجد کے باہر ایک کتبہ لکھا ہے کہ مسجد کی تکمیل اور افتتاح ۲۷ مئی ۱۹۸۴ء کو ہوا۔ امریکہ کے زمانہ قیام میں ایک بار میں نے ایک سفید فام امریکن سے کشمیر کے بارے میں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues