Q. Do you know about Kashmir?
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
سوال کیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کشمیر کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ وہ ابھی تک بری ہالت میں ہے۔ ان کو ہماری مدد کی ضرورت ہے :
Q. Do you know about Kashmir?
A. Yes, I know it is in pretty bad shape and right now they need our help. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کتنا زیادہ نا کام ہے۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ کشمیر کے بارہ میں صرف وہی جانتے ہیں جو میڈیا میں آتا ہے۔ اور میڈیا ہمیشہ سلیکٹو رپورٹنگ کرتا ہے۔ اگر آپ کشمیر کی پوری صورت حال کو جانیں تو آپ کی رائے بدل جائے گی۔
اسکول کے خوب صورت حال میں ۱۴ ستمبر کو گیارہ بجے کانفرنس کی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے سیشن کا چیر مین مجھ کو بنایا گیا تھا۔ کو آرڈی نیٹر کے فرائض ایک بلیک مسلم مسٹر رسول سلو کی نے انجام دیا۔ تلاوت قرآن کے بعد مولانا ذکی الدین شرفی نے کانفرنس کا تعارف پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمان صرف اسپین تک پہنچے تھے۔ موجودہ زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کی بڑی تعداد مغربی ملکوں میں جمع ہو گئی۔ اس میں ایک خدائی منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔ مولانا ذکی الدین شرفی نے کہا کہ ٹکراؤ دعوتی کام کے لیے زہر ہے : Confrontational approach is a poison for Dawa. اس کے بعد امام یحییٰ ہندی (فلسطین) نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے ان احادیث پر تفصیلی کلام کیا جو مسیح اور دجال سے متعلق کتب حدیث میں آئی ہیں۔ ان کے مقالہ کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ پیشین گوئیاں اتنی قطعی ہیں کہ ان کے استناد کے بارہ میں شبہ نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد ڈاکٹر خالد یحییٰ بلینکن شپ نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ وہ ایک سفید فام نومسلم ہیں۔ انھوں نے ٹکنالوجیکل ڈویلپمنٹ اور اس کے نتائج پر کلام کیا انھوں نے کہا کہ مادی تہذیب کا خلاصہ ہے Let us live comfortably ان کا پیپر لکھا ہوا تھا۔ مگر انھوں نے اس کو سامنے رکھ کر زیادہ تر زبانی کہا۔ عنوان یہ تھا :
The End of History and the last man.
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues