Today is the first day of the rest of my life.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۳۹
آزادی ختم کر دی ہے۔ شاہ ایران نے انکار کیا۔ گفتگو کے بعد شاہ نے کہا کہ کل آپ دیکھیں گے کہ اخبار، ٹی وی ہر جگہ لوگ آزادی کے ساتھ اظہار خیال کر رہے ہوں گے۔ چنانچہ اگلے دن عوامی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے بعد اچانک ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ خمینی کے کیسٹوں نے جو اشتعال برپا کیا تھا وہ اچانک باہر آ گیا۔ یہاں تک کہ شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا اور شاہ حالات سے بے خبر تھا) افتخار صاحب نے بتایا کہ شاہ کے جانے کے بعد کسی ایرانی نے ان سے کہا کہ کیا شاہ چلا گیا (شاہ رفت) انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ایرانی نے کہا کہ نہیں، وہ بھاگ گیا (فرار کرد) تقریر کے بعد بہت سے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا :
Many people, including Muslims, think Islam was spread by force. What is your opinion. میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ پچھلی تاریخ میں دوسری قوموں کے ساتھ لڑائیاں ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کی حکومتیں بھی قائم ہوئی ہیں۔ مگر ان لڑائیوں یا ان حکومتوں کا اسلام کی تبلیغ و اشاعت سے کوئی براہ راست تعلق نہ تھا۔ اسلام ہر جگہ، بشمول عرب، اپنی نظریاتی طاقت کے ذریعہ پھیلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر میں اگرچہ دور اول کے مسلمانوں اور وہاں کے قدیم حکمرانوں سے جنگ ہوئی ۔ مگر مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ مصر میں مذہب اسلام کا پھیلنا تلوار کے زور پر نہیں ہوا بلکہ قرآن کے ذریعہ پر امن طور پر ہوا۔ مثلاً مصری تاریخ کے ماہر سر آرتھر کیتھ نے لکھا ہے : The Egyptians were conquered not by the sword but by the Qur'an. ایک صاحب بظاہر اچھی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔ ان کے پاس اچھا جاب بھی ہے۔ ایک روز اپنے ذاتی حالات بتائے تو معلوم ہوا کہ وہ نہایت بری حالت میں ہیں ۔ ان کو ایسا لگنے لگا تھا کہ ان کا مستقبل اب تباہ ہو چکا ہے۔ میں نے کہا کہ زندگی کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر کھونے کے بعد پانے کا ایک نیا امکان آدمی کے لیے موجود رہتا ہے۔ کسی نے نہایت درست کہا ہے کہ آج کا دن میری بقیہ زندگی کے لیے پہلا دن ہے :
Today is the first day of the rest of my life.
میں نے کہا کہ آپ کھوئے ہوئے دنوں پر افسوس کرنے کے بجائے بقیہ دنوں کو بھرپور
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues