Al-Risala · December 1998 · page 40

Today is the first day of the rest of my life.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۰

طور پر استعمال کریں ۔

کانفرنس میں مختلف لوگ اپنا اپنا لٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔ شاہد ابراہیم ڈی کے نام سے چھپا ہوا ایک پمفلٹ ملا۔ یہ جمعہ کی تقریر تھی جو انھوں نے انڈیانا پولس (Indianapolis) کی الفجر مسجد میں کی تھی۔ انھوں نے قرآن کی روشنی میں داعی کے کیریکٹر کو بیان کیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے کہا تھا کہ دعوت کے راستہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ سی آئی اے، امریکی حکومت یا مسیحی مشنریوں کی طرف سے نہیں ہیں، بلکہ وہ خود مسلمانوں کی طرف سے ہیں جو کہ اسلام کو اس کی اصل معنویت اور صحیح مثال کے ذریعہ پیش نہیں کر رہے ہیں ؛

The obstacle to the efforts of Da'wah are not from the CIA, U.S. Gov- ernment, or evangelists but from we Muslims, in not showing Islam in its true meaning and example. امریکہ کی ریاست ور جینیا کے شہر پورٹس ماؤتھ (Portsmouth) میں ۱۵ ستمبر ۱۹۹۶ کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دو مسلم خواتین کسی سامان کی خریداری کے لیے مقامی جنرل اسٹور کی طرف جارہی تھیں۔ انھوں نے اپنے چہرہ پر مشرقی انداز کا پردہ ڈال رکھا تھا۔ فوراً پولیس آئی اور اس نے دونوں خواتین کو گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کی گئی۔ البتہ انھیں پردہ اوڑھ کر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مسلم خاتون نے اپنی صفائی میں کہا کہ ہم دونوں مسلمان ہیں اور یہ ہمارے اسلامی لباس کا ایک حصہ ہے۔ پولیس نے اس دلیل کو نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ ہمارے نزدیک یہ نقاب (mask) ہے اور امریکی قانون کے مطابق ، کوئی مرد یا عورت کسی پبلک پلیس پر اپنے چہرہ کو نقاب میں چھپا کر نہیں چل سکتا۔

چونکہ مجرمین بعض اوقات اپنے کو شناخت سے بچانے کے لیے چہرہ پر نقاب (ماسک) ڈال لیتے ہیں۔ اس لیے امریکہ میں مذکورہ قانون بنایا گیا ہے۔

عرفان انیس عمر صاحب ٹمپل یونیورسٹی میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں دہلی میں فلاسفی کا سبجکٹ لیے ہوئے تھا۔ اس وقت مذہب سے مجھے دل چسپی نہ تھی۔ پھر مجھے الرسالہ ملا۔ الرسالہ کے مطالعہ کے بعد مجھے اسلام کو پڑھنے سے دل چپی ہو گئی۔ الرسالمجھے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page