Al-Risala · December 1998 · page 46

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۶

۱۴ ستمبر ۱۹۹۶ء کو واپسی تھی۔ صبح سات بجے جناب خواجہ کلیم الدین صاحب کے ساتھ بروکین سے کینڈری ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ ایئر پورٹ کے مختلف مراحل طے ہو کر آخر کار گیٹ نمبر ۳ تک پہنچا۔ کلیم الدین صاحب آخری مرحلہ تک میرے ساتھ رہے۔ دہلی ایئر پورٹ پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ یہاں پہنچانے والے کو بیرونی گیٹ پر روک دیتے ہیں۔ اس کے آگے صرف ٹکٹ کے حاملین ہی جا سکتے ہیں۔

نیویارک سے لندن کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ نمبر ۷۰۸ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ساڑھے چھ گھنٹہ کی یہ پرواز اٹلانٹک سمندر کے اوپر تھی اور نہایت اسموتھ تھی۔ مگر لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر جہاز اترا تو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ دھم سے گر گیا ہو۔ میں ڈرا کہ کہیں پہیہ پھٹ تو نہیں گیا۔ مگر خدا کے فضل سے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔

لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایرویز کی فلائٹ ۱۴۵کے ذریعہ ہوئی۔ اس فلائٹ میں ہندوستانی زیادہ تھے۔ اس لیے حسب دستور شور کا اضافہ ہو گیا۔ ہندوستانی مزاج نہ چپ رہنے کا ہے اور نہ آہستہ بولنے کا۔ ایک ہندوستانی پابند رویہ صرف اس وقت اختیار کرتا ہے جب کہ وہ اس کے لیے مجبور کر دیا گیا۔ اصول کے تحت آزادانہ طور پر ہندوستانی کے لیے پابند زندگی گزارنا ممکن نہیں۔

یہ جہاز دہلی ہوتا ہوا ڈھاکہ جا رہا ہے۔ چنانچہ اس میں اعلانات انگریزی کے بعد ہندی اور بنگلہ زبان میں ہوئے ۔ بنگلہ زبان میں اعلان مرد نے کیا اور اس کا آغاز السلام علیکم سے کیا اور آخر میں خدا حافظ کہا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش بننے کا کوئی حقیقی اسلامی فائدہ تو نہیں ہوا۔ البتہ کچھ نہ کچھ کٹھول تشخصات ضرور قائم ہو گئے ہیں۔

۱۷ ستمبر ۱۹۹۶ء کو دوپہر کے وقت جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ نیویارک سے لندن کی پرواز بہت ہموار تھی۔ مگر لینڈنگ غیر ہموار رہی۔ اس کے برعکس لندن سے دہلی کی پرواز غیر ہموار تھی مگر لینڈنگ بالکل ہموار تھی۔ یہی وسیع تر معنوں میں زندگی کا معاملہ ہے۔ کبھی آدمی کا ایک پہلو درست ہوتا ہے اور کبھی دوسرا پہلو۔ موجودہ دنیا میں ہر پہلو سے معیاری زندگی حاصل کرنا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page