Every human being is potentially Muslim.
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵
کی مسجد میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو پاکستان کا مخالف بتایا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سراسر بے بنیاد بات ہے ، اور یہ میرے اوپر بہتان ہے۔ میرا اختلاف صرف اس معاملہ میں ہے کہ پاکستان کی تعمیر کے لیے عملی طریقہ کیا ہو۔ میں ان لوگوں کا مخالف ہوں جو پاکستان بنتے ہی یہ پر شور مطالبہ لے کر کھڑے ہوگئے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کرو۔ میں کہتا ہوں کہ یہ احمقانہ حد تک بے معنی تحریک تھی۔ کیونکہ مطالبا تی ہنگاموں سے کبھی کسی ملک میں اسلامی نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ میرا کہنا یہ تھا کہ سیاسی اقتدار کے معاملہ کو الیکشن پر اس کے حوالے کرکے ان لوگوں کو اصلاح معاشرہ کے کام پر لگنا چاہیے تھا۔ یہ لوگ اگر ریاست کے اسلامائزیشن کے۔ بجائے انسان کے اسلامائزیشن پر اپنی کوششوں کو مرتکز کرتے تو اب تک بہت کچھ کام ہو چکا ہوتا۔ مگر گھوڑا کے آگے گاڑی باندھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساری کوششیں برباد ہوکر رہ گئیں۔
نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے ۵۰ منٹ تک خطاب کیا۔ خطاب کا موضوع اعتماد علی اللہ اور صبر و اعراض تھا۔
امریکہ میں مقیم ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ اگر آپ اسلام میں امن کی بات کریں تو لوگ تعجب کے ساتھ سوال کریں گے کہ کیا آپ صوفی ہیں :
When you speak of peace in Islam, some people surprisingly ask, "are you a Sufi?"
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے پایا ہے کہ مسلمانوں میں صوفی لوگ ہی ہیں جو حقیقی معنوں میں امن کی بات کرتے ہیں۔ جو دوسروں کے درمیان پر امن طور پر رہ کر روحانی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس کے برعکس جو دوسرے مسلمان ہیں وہ یا تو عملاً جہاد کے نام پر ٹکراؤ کی تحریک چلا رہے ہیں۔ یا لفظی طور پر اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے ہیں جو لا محالہ ایک اور دوسرے کے درمیان ٹکراؤ پیدا کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں صوفی اسلام زیادہ مقبول ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues