Al-Risala · December 1998 · page 48

Every human being is potentially Muslim.

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۸، صفحہ ۴۸

جواب

میرے نزدیک یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ یعنی اس معاملہ کی پچاس فیصد ذمہ داری ہندوؤں پر ہے اور پچاس فیصد ذمہ داری مسلمانوں پر۔ ہندوؤں کی غلطی یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو ”غیر“ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہندوستانی مسلمانوں کی ۹۹ فیصد تعداد خود ہندوؤں سے ہی نکل کر آئی ہے۔ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ سارے مذاہب ایک ہیں اور تمام مذاہب سچے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر کچھ ہندوؤں نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو اختیار کر لیا تو ہندو عقیدہ کے مطابق، وہ ایک سچے مذہب کو چھوڑ کر دوسرے سچے مذہب میں داخل ہو گیا۔ ایسی حالت میں کم از کم ہندوؤں کو ہر گز اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے اور نہ ایسے مسلمانوں کو غیر سمجھنا چاہئے۔ مسلمانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ قدیم ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کو ”اسلامی حکمران“ قرار دیتے ہیں اور ان کا دفاع اسی طرح کرتے ہیں جس طرح انھیں اسلام کا دفاع کرنا چاہئے۔ چونکہ ہندوان حکمرانوں کو حملہ آور سمجھتے ہیں اس لئے جب مسلمان ان کی حمایت کرتے ہیں تو ہندوؤں کو ایسے مسلمانوں سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک دونوں ہی طرف یہ صرف سوچ کی ایک غلطی کا معاملہ ہے، وہ کوئی حقیقی مسئلہ نہیں۔ سوال عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قائد نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ آپ کے خیال میں اگر کوئی قائد ہے تو وہ کون ہے۔ اگر کوئی قائد نہیں ہے تو اس کا سبب کیا ہے۔ آخر مسلم ملت قیادت سے خالی کیوں ہو رہی ہے۔ (نسیم احمد عظمی، مئو)

جواب

یہ سوال بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے۔ مگر میرے نزدیک وہ درست نہیں ہے۔ میں سمجھتا

‹ Previous page Next page › Contents of December 1998 All issues

Printed page