Al-Risala · February 1998 · page 12

ایک سنت

الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲

تھا کہ ہجرت کے نازک سفر میں بھی قلم اور کاغذ آپ کے ہمراہ تھا اور ایک کاتب وحی (ابوبکر صدیق) آپ کے ساتھ چل رہے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پورا قرآن اس زمانہ کے اوراق اور کاغذات پر لکھا جا چکا تھا۔ بہت سے صحابہ (مثلاً زید بن ثابت انصاری) پورے قرآن کے حافظ تھے۔ آخر عمر میں آپ نے ایک بار پورے قرآن کو سلسلہ وار پڑھا اور صحابہ کی ایک جماعت نے اس کو براہ راست آپ سے سنا۔ اس کو حدیث کی کتابوں میں العرضۃ الاخیرہ کہا گیا ہے۔

اس طرح کے مختلف اہتمام کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کو ایک جلد کی صورت میں جمع نہیں فرمایا۔ آپ کی وفات کے وقت قرآن یا تو لوگوں کے سینہ میں تھا، یا متفرق ٹکڑوں اور اوراق پر لکھا ہوا تھا۔ وہ ایک واحد کتاب کی صورت میں مرتب نہیں ہوا تھا جیسا کہ آج وہ ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقینی طور پر اس سے باخبر تھے کہ اس صورت حال کو بعد کے لوگ کتاب اللہ کے بارے میں شوشے بنائیں گے۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں مستشرقین نے اس واقعہ کو لے کر طرح طرح کے شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر مستشرقین کی مرتب کردہ دائرۃ المعارف الاسلامیہ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام) کی پانچویں جلد میں اس مسئلہ کو اٹھایا گیا ہے اور اس کی مختلف توجیہیں کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک توجیہ یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کا خیال تھا کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے اور جلد ہی یہ دنیا ختم ہو جائے گی، اس لئے قرآن کو ایک جلد میں مرتب کرنے کا جذبہ ان کے اندر پیدا نہیں ہوا :

ان الرسول كان يتوقع قرب قيام الساعة ونهاية العالم في زمن قريب ۔ فكان لا داعي الى جمع القرآن (الوعي الاسلامی، کویت ، رمضان ۱۴۱۰ھ )

ان امکانی خطرات کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل کہ آپ نے قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں مجلد نہیں کرایا ، یہ کوئی بھول یا غلطی کی بات نہیں ہے، یہ خود آپ کی ایک سنت ہے۔ ایسا آپ نے قصد و ارادہ کے تحت کیا۔ کیوں کہ اس سے ایک اہم دینی فائدہ وابستہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دین کو کامل کرنا تھا، اس لئے ناممکن تھا کہ آپ کسی دینی کام کو غیر کامل حالت میں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues

Printed page