ایک سنت
الرسالہ، فروری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳
چھوڑ دیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایسا کرتے کہ اپنی زندگی ہی میں قرآن کو ایک صحیفہ کی صورت میں مرتب کرکے اس کی بہت سی جلدیں بنواتے اور اس کو تمام ملکوں کی مسجدوں میں رکھوا دیتے تو آپ کے بعد قرآن کا تقریباً وہی انجام ہوتا جو آج امت کے اندر نظر آ رہا ہے۔ لوگ بنے بنائے قرآن کو لے کر بس اس کی تلاوت کرنے میں لگ جاتے۔ قرآن کے سلسلہ میں انھیں اس کے سوا کوئی اور کام نظر نہ آتا جس میں وہ اپنے آپ کو مشغول کریں۔ قرآن کی تدوین کو نا تمام چھوڑ کر آپ نے اپنے بعد امت کو ایک بہت بڑی مشغولیت عطا کر دی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے زمانہ میں ۱۲ ھ میں یمامہ (سعودی عرب) میں ایک جنگ ہوئی ۔ اس میں ۷۰، ایسے مسلمان شہید ہوگئے جو پورے قرآن کے حافظ تھے۔ اس سے حضرت عمر فاروق کو اندیشہ ہوا کہ قرآن کے حفاظ اگر اسی طرح ختم ہوتے رہے تو قرآن کا علم چلا جائے گا۔ انھوں نے حضرت ابو بکر سے کہہ کر قرآن کی تدوین کرائی۔
تاہم یہ کوئی سادہ معاملہ نہ تھا۔ اولاً خلیفہ اول کو اس میں تردد ہوا کہ جو کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ اس کو ہم کیسے کریں۔ کافی بحث کے بعد وہ راضی ہوئے۔ اب ایک مستقل سرگرمی جاری ہوگئی۔ مثلاً حضرت عمر اور حضرت زید روزانہ مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ لکھا ہوا موجود ہو، وہ یہاں لا کر مسجد میں جمع کرے۔
حضرت زید بن ثابت انصاری اپنی مختلف صلاحیتوں کی وجہ سے اس کے لئے موزوں سمجھے گئے کہ وہ اس عظیم کام کے ذمہ دار اعلیٰ مقرر کئے جائیں۔ انھوں نے تمام جمع شدہ مکتوب اجزاء کو پڑھا۔ ان کو حافظہ کی مدد سے جانچا۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار کسی کتاب کے لئے (double checking) (دہرا جانچ) کا نظام قائم کیا گیا۔ یعنی کتابت کو حافظہ سے جانچا گیا اور حافظہ کو کتابت سے۔ تاہم حضرت زید بن ثابت (م ۴۵ ھ) کے لئے یہ اتنا سخت کام تھا کہ انھوں نے کہا :
فواللہ لو كلفوني نقل جبل من الجبال خدا کی قسم، اگر وہ مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالتے کہ پہاڑوں ماكان اثقل علی مما امرنی به من میں سے کسی پہاڑ کو میں اپنی جگہ سے ہٹا دوں تو وہ میرے جمع القرآن (المصاحف لابن ابی داؤد) لئے اس حکم سے زیادہ سخت نہ ہوتا جو ابو بکر و عمر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1998 All issues