فطرت سے انحراف
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
بندی کا خاتمہ ہو گیا۔ لطیف احساسات کی جگہ صرف لذت اندوزی، زندگی کا مرکز و محور بن گیا۔
یہ تبدیلی اتنی دور رس تھی کہ اس کے نتیجہ میں اقدار کا نظام (value system) پوری طرح بدل گیا۔ انسانی اخلاق کسی اعلیٰ اصول کا پابند نہ رہا بلکہ صرف مادی تقاضوں کا پابند بن گیا۔
مغربی تہذیب کی تمام غلطیوں میں شاید سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے عورت اور مرد دونوں کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیا۔ فطرت کے مطابق، عورت اور مرد کے درمیان ازدواجی تعلق کی واحد درست بنیاد نکاح ہے۔ لیکن مغربی تہذیب نے اس تعلق کو نکاح کے بجائے محبت (بالفاظ دیگر شہوت) کی بنیاد پر قائم کر دیا۔ اس تبدیلی کا بھیانک نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی معاشرت کا یہ شعبہ فساد کا شکار ہو کر رہ گیا۔ محبت ایک جذباتی کیفیت ہے، جب کہ نکاح ایک ذمہ داری کا عنوان ہے۔ مرد اور عورت کے درمیان خدا نے طرفین کے لئے ایک فطری کشش رکھی ہے۔ اس بنا پر جب ایک نوجوان مرد اور ایک نوجوان عورت آزادانہ طور پر باہم ملیں تو دونوں اپنے دل میں ایک دوسرے کے لئے کشش محسوس کرتے ہیں۔ اسی کشش کو مغربی تہذیب میں محبت کا نام دیا گیا ہے۔ حالانکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف شہوت ہوتی ہے۔ اس طرح مغربی تہذیب میں شہوت کو محبت کا خوبصورت نام دے کر جنسی بے راہ روی کو جائز قرار دے دیا گیا۔ نکاح کا طریقہ طرفین پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ اس فطری جذبہ کو فطرت کی حد میں رکھیں۔ وہ محبت کو ذمہ داری کے تابع بنائیں نہ کہ ذمہ داری کو محبت کے تابع کر دیں۔ جس کا نتیجہ بد ترین سماجی فساد ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues