Al-Risala · January 1999 · page 13

خود پسندی

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

خود پسندی

عورت اور مرد دونوں کی مشترک کمزوری یہ ہے کہ دونوں پیدائشی طور پر خود پسند ہوتے ہیں۔ عورت کی خود پسندی اس کو ذاتی آرائش کی طرف لے جاتی ہے۔ جس کا اشارہ قرآن کی سورہ الزخرف (آیت ۱۸) میں کیا گیا ہے۔ مرد کی خود پسندی اس کے اندر فخر اور عظمت کا احساس پیدا کر دیتی ہے۔ جس کا ذکر قرآن کی سورہ النساء (آیت ۳۶) میں ملتا ہے۔ عورت اور مرد کے اندر یہ جذبات پیدائشی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ مگر وہ صرف آزمائش کے لئے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عورت اور مرد دونوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس آزمائش میں جو کامیاب ہو، وہی کامیاب ہے، اور جو ناکام ہو، وہی ناکام۔ عورت کار. رجحان فطری طور پر آرائش کی طرف ہوتا ہے۔ مگر عورت کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اس جذبہ پر کنٹرول کرتے ہوئے اپنے آپ کو سادگی پسند بنائے۔ وہ نمائش چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر مفید عملی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

اسی طرح مرد کے اندر اگر چہ فطری طور پر خود پسندی کا جذبہ ہے مگر وہ اس لئے نہیں ہے کہ آدمی اس کا اظہار کرتا پھرے۔ کامیاب انسان وہ ہے جو خود پسندی اور فخر کے اس جذبہ کو کنٹرول کرے۔ وہ فخر و مباہات کے بجائے تواضع اور انسانی خدمت کو اپنا دستور حیات بنائے۔ خدا اپنی دنیا میں ایسے عورت اور مرد دیکھنا چاہتا ہے جو ذاتی نمائش یا ذاتی فخر کے جذبات سے بلند ہوں۔ وہ اپنے لئے جینے کے بجائے دوسروں کے لئے جیں۔ وہ خود پسندی کے بجائے خدا پرستی کو اپنا شیوہ بنائیں۔ وہ ذاتی خول سے باہر نکل کر فطرت کے آفاقی نقشہ میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page