Al-Risala · March 1999 · page 13

غیر ذمہ دار صحافت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

درست سمجھ کر وہ اس کو ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر تیزی سے اس طرح پھیلانے لگے جیسے کہ وہ کوئی آسمانی صداقت ہو۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ حضرات اپنی اس متضاد روش کا کیا جواز پیش کریں گے۔

اخباری رپورٹوں کے بارے میں عام طور پر یہ بات معلوم و معروف ہے کہ ان میں کبھی قصد اور کبھی بلا قصد باتیں کچھ سے کچھ ہو جاتی ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی اخبار میں کوئی رپورٹنگ بالکل صحیح اور درست ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ افراد کبھی اخبار کی بنیاد پر کوئی رائے قائم نہیں کرتے۔ مگر ان اخباری مراسلہ نگاروں کی غیر ذمہ داری کا یہ حال ہے کہ وہ ایسی رپورٹوں کے بارے میں نہ اپنے کا من سنس کو استعمال کرتے اور نہ معاملہ کی وہ ضروری تحقیق کرتے جس کا قرآن میں صراحۃ حکم دیا گیا ہے۔ (الحجرات : ۶)

مثال کے طور پر قومی آواز کے مذکورہ مراسلہ میں میری بابت بتایا گیا ہے کہ میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ قرآن میں سنسکرت کے الفاظ بڑی تعداد میں ہیں۔ یہ ایک جاہلانہ بات ہے کوئی بھی عالم ایسی بات کہہ کر اپنی تضحیک کا سامان نہیں کر سکتا۔ میں نے جو کچھ کہا وہ صرف یہ تھا کہ اسلام کسی زبان سے تعصب نہیں سکھاتا۔ قرآن اگر چہ عربی زبان میں ہے مگر علماء نے لکھا ہے کہ اس میں کئی غیر عربی الفاظ بھی استعمال کئے گئے ہیں۔ میں نے ایسا ہر گز نہیں کہا کہ قرآن میں سنسکرت کے الفاظ موجود ہیں۔ یہ بلا شبہ ایک جاہلانہ بات ہے جو کبھی میں نہیں کہہ سکتا۔ میری تحریریں گواہ ہیں کہ میں ہمیشہ علم کی زبان میں کلام کرتا ہوں، جہالت کی زبان میں بولنا مجھے نہیں آتا۔ مذکورہ مراسلہ نگار نے اپنے مراسلہ میں مجھ کو ”بڑا عالم" لکھا ہے۔ ان کا یہ اعتراف ہی کافی تھا کہ وہ مذکورہ قسم کی باتوں کو لغو پروپیگنڈا کہہ کر اسے رد کر دیں۔ اس لئے کہ کوئی بھی شخص جو قرآن و حدیث کا عالم ہو اس کا علم خود ایسے کسی فعل کے لئے ایک روک بن جائے گا۔ کیونکہ وہ محسوس کرے گا کہ ایک ایسی بات کہنا جو مسلمہ طور پر غیر علمی یا غیر اسلامی ہو، خود اپنی ہی زبان

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page