غیر ذمہ دار صحافت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴
سے اپنی تردید کرنا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی حیثیت عرفی کو برباد کرنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر مراسلہ نگار نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ”رسول اللہ چار زبانوں کے عالم تھے جن میں سے ایک سنسکرت زبان ہے“ یہ بات بلاشبہ غیر علمی اور غیر تاریخی ہے۔ یہ اخبار کی خود ساختہ رپورٹ ہے۔ کوئی بھی عالم اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی بلا ثبوت بات کہے۔ خدا کے فضل سے میں نے ایسا کبھی نہیں کہا۔ میں نے جو بات کہی تھی وہ یہ تھی کہ رسول اللہ کے کاتب زید ابن ثابت انصاری (نہ کہ خود رسول اللہ) چار زبانیں جانتے تھے۔ ان چار زبانوں میں میں نے ہرگز سنسکرت کو شامل نہیں کیا تھا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ چار زبانیں عربی، فارسی، عبرانی اور سریانی تھیں نہ کہ سنسکرت۔
یہ چند مثالیں یہ اندازہ کرنے کے لئے کافی ہیں کہ حال میں میرے خلاف جو بہتان طرازیاں کی گئی ہیں وہ سراسر بے اصل ہیں۔ اس قسم کی بہتان طرازی کا جواب یہ نہیں ہے کہ ان کا براہ راست جواب دیا جائے ۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر وہ شعور جگایا جائے جس کے بعد وہ خود ایسی باتوں کا تجزیہ کر کے فوراً اسے رد کر دیں۔
مثال کے طور پر ایک شخص اگر کہے کہ مولانامولانا امین اصلاحی نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو (نعوذ باللہ) مورتی پوجا کرنا چاہئے تو سننے والے کے اندر یہ شعور ہونا چاہئے کہ وہ اس کو سن کر خود اپنے کا من سنس سے اس کو لغو قرار دے دے۔ وہ کہہ دے کہ مولانا امین اصلاحی نے حقیقت توحید اور حقیقت شرک کے نام سے خدا پرستی کی حمایت اور بت پرستی کی مخالفت میں زبردست کتابیں لکھی ہیں، اس لئے وہ ایسا کبھی نہیں کہہ سکتے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کہے کہ ”مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ لکھا ہے کہ جس طرح کلیلہ ودمنہ پہلے سنسکرت میں لکھی گئی تھی مگر اب اس کا سنسکرت نسخہ معدوم ہے۔ البتہ فارسی سے کیا ہوا ابن مقفع کا عربی ترجمہ کلیلہ ودمنہ کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن بھی
‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues