Al-Risala · March 1999 · page 44

بھوپال کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴

بے ترتیب گاڑیوں کا ہجوم، فضا میں کثافت، سڑک کے دونوں طرف غیر صاف فٹ پاتھ، جگہ جگہ لاؤڈ اسپیکروں کا شور، غیر قانونی تعمیرات، وغیرہ۔ ۱۹۴۷ کے بعد ملک میں جو حکومتیں بنیں، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ ملک کی ترقی کے لئے بڑے بڑے کام کر رہی ہے۔ مگر یہ ترقیان آج بھی صرف کاغذ پر دکھائی دیتی ہیں، شہروں اور بستیوں میں وہ کہیں نظر نہیں آتیں۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ایک ہندو تاجر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنا نام چھوٹا لال (۸۲ سال) بتایا۔ وہ گاندھی جی کے وطن پور بندرمیں پیدا ہوئے۔ اب بزنس کے تحت کلکتہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے گاندھی جی کو دیکھا تھا اور ان کی باتیں سنی تھیں۔ انھوں نے سخت لہجہ میں ہندوستان کی سیاست پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ گاندھی جی کہتے تھے کہ دیش کو آزاد کر کے ہم اپنے یہاں رام راجیہ بنائیں گے۔ مگر آج رام راجیہ کہاں ہے۔ یہ تو راون راجیہ ہے ۔ یہ دیش اچھے لوگوں کے رہنے کے لئے نہیں ۔ یہ چوروں اور لٹیروں کے لئے ہے۔ لوگ صرف گاندھی کا نام لیتے ہیں گاندھی کو مانتا کوئی بھی نہیں۔ مسٹر چھوٹا لال نے دنیا کے اکثر ملکوں کو دیکھا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ جن ملکوں میں گئے ان میں سے کون سا ملک آپ کو زیادہ پسند آیا۔ انھوں نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا، سلازار (۱۹۷۰) (Antoniode Oliveira Salazar) کا ملک پرتگال۔ سلازار پرتگال میں ۳۶ سال تک وزیر اعظم رہا۔ اس کو ایک عامر حکمراں کہا جاتا ہے۔ مگر وہ ایک نہات با اصول آدمی تھا۔ وہ نہایت سادہ زندگی گزارتا تھا۔ وہ پبلیسٹی سے دور رہتا تھا۔ اسٹیج کی تقریر سے اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ۱۹۳۲ میں جب اس کو پرتگال کا سیاسی اقتدار ملا اس وقت یہ ملک زبردست انتشار کا شکار تھا مگر سلازار کی سیاسی قیادت کے تحت اس کو نئی زندگی مل گئی۔ بھوپال سے دہلی کے لئے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ ۴۳۴ کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ جہاز تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہو کر ساڑھے بارہ بجے دلی پہنچا۔ ہندوستان میں ہوائی جہاز کی سطح پر بھی اوقات کی پابندی موجود نہیں۔ پھر ریلوں اور بسوں کے سفر میں اگر اوقات کی پابندی نہ ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1999 All issues

Printed page